The news is by your side.

Advertisement

پاکستان پر کرپٹ اور قاتلوں کو مسلط کردیا گیا ہے، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں‌ کرپٹ اور قاتلوں کو مسلط کردیا گیا ہے جو ملک کے مستقبل کی توہین ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی سازش کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کو باہر نکلنے اور بھرپور احتجاج کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی امریکا اور یورپ کےخلاف نہیں ہوں، میرے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات تھے۔ ہم دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی نامنظور ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکیوں کو اپنی بات منوانے کیلیے حکم دینے کی عادت پڑی ہے، ماضی میں ہمارے ایک سربراہ نے ایک دھمکی  کے بعد ملک کو جنگ میں شامل کردیا حالانکہ اس دہشت گردی کی جنگ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن  امریکا سے دھمکی آئی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو اور ہم لیٹ گئے، مشرف امریکی دباؤ برداشت نہیں کرسکا، جنگ میں شامل ہوئے، ہم گرتے گئے اور انکے مطالبات بڑھتے گئے۔

پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اپنے ملک کے مفاد میں ہونی چاہیے، میں چاہتا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی پاکستانیوں کیلیے ہونی چاہیے، ہمیں اپنے ملک کو کسی اور کی خارجہ پالیسی کیلئے قربان نہیں کرنا چاہیے، چین ہمارا پڑوسی اور بہت اچھا دوست ہے، چین ابھرتی ہوئی طاقت ہے ہم چاہتے تھے کہ اس سے اور اچھے تعلقات ہوں۔ بہت پہلے سے کوشش تھی کی روس سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں، روس سےتعلقات میں بہتری پر ہمارا بڑا فائدہ ہے،ہم نے روس سے گیس اور گندم کم قیمت پر لینی تھی، جس سے عوام کو فائدہ ہوتا، روس ہمیں گیس اور گندم 30 فیصد کم قیمت دینے پر رضامند تھا۔ آج ہندوستان روس سے مذاکرات کرکے سستا تیل منگوا رہا ہے حالانکہ بھارت امریکا کا اسٹریٹیجک اتحادی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے اڈے دینے سے انکار کیا اور مسائل شروع ہوئے، پاکستان کےمیر جعفر اور میر صادق نے ان کا ساتھ دیا، ہماری حکومت گرانے کیلئے ہمارے ارکان کو خریدا گیا اور پاکستان پرکرپٹ اور قاتلوں کو مسلط کردیا گیا، ایسے لوگوں کو مسلط کرنا ملک کےمستقبل کی بھی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفیرکہتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائےگا اور اگر ناکام ہوئی تو معاف نہیں کیا جائیگا، میں نےایسی کون سےغلطی کردی کہ معاف کردیا جائےگا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تھی توملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا تھا، پوری دنیا میں لوگ کورونا سےمررہے تھے، دنیا کی معیشت تباہ ہوگئی تھی لیکن ہم نے  اپنےلوگوں کو کورونا وائرس سے بچایا، کورونا کےباوجود پاکستان کی معیشت کو سنبھالا، میرےدور میں ٹیکس کلیکشن ریکارڈ پر تھیں، کسانوں کوسب سےزیادہ پیسہ گیا، جب ملک ہمارا اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تو سازش سے حکومت گرادی گئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے کئی سیاستدانوں نےالزام لگایا کہ پاکستان کی وجہ سے افغانستان میں کامیاب نہیں ہوئے، یہ جھوٹ ہے کہ وہ ہماری وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے، ہمارے ملک کی تباہی ہوئی، قبائلی علاقہ اجڑگیا، اب پھر کہتے ہیں کہ دوبارہ بیسز دو، میں نےتو کبھی نہیں ماننا تھا، اس کے بعد وہاں سے سازش تیار کی گئی۔

عمران خان نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں مہنگائی پر بہت شور مچایا گیا، اب تو ہمارے دور سے کہیں زیادہ ریکارڈ مہنگائی ہوگئی ہے، ہمارے دور میں تھوڑی سی قیمت بڑھتی تھی مائیک پکڑ کر لوگوں سے پوچھتے تھے، بجلی کی قیمتیں بڑھادی ہیں، گھی کی ریکارڈ قیمت ہوگئی ہے، میڈیا سے پوچھتا ہوں اب کہاں گئی مہنگائی؟ وہ اب وہ مائیک پکڑ کر مہنگائی کا پوچھنے عوام کے پاس کیوں نہیں جاتے؟

پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ کبھی مولانا لانگ مارچ کررہے تھے کبھی بلاول آرہا تھا، یہ سب فیل ہوئے کیونکہ عوام ان کے ساتھ نہیں تھے اور اب غلامی اور امپورٹڈ حکومت نامنظور کے خلاف پوری قوم اکھٹی ہوگئی ہے، امپورٹڈ حکومت کے خلاف مہم چلانے کیلئے اوورسیز پاکستانیوں کی ضرورت ہے، 20 مئی کے بعد اسلام آباد کی کال دوں گا، ہم کوئی انتشار نہیں چاہتے، اسلام آباد میں پرامن احتجاج ہوگا تاکہ اداروں اورغداروں کو پتا چل سکے قوم اس وقت کہاں کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ میں عوام نے نعرے لگائے اور مقدمات ہم پر بنائے گئے، ہم پر توہین مسجد نبوی ﷺ کے مقدمات بنانے والوں کو شرم آنی چاہیے، بدقسمتی سے چیری بلاسم ملک پر مسلط ہے، لیکن اب غدار اور چور کے نعرے پوری دنیا میں لگیں گے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ یہ کہتے تھے حکومت نے تباہ کردیا، کدھر ہے نیا پاکستان، ہماری حکومت کو بدنام کرنے کیلئے پہلے میڈیا میں پیسہ چلایا گیا تھا، پھر پیسہ چلایا گیا اور سندھ ہاؤس میں نیلام گھر لگایا گیا، چیری بلاسم اور بوٹ پالش ملک کیلئے کبھی نہیں کھڑےہوں گے، ہماری اشرافیہ کرپٹ اورغلام ہیں کہتے ہیں امریکا کے بغیر ہم نہیں چل سکتے، لندن میں سب سےمہنگےعلاقے میں شریف خاندان کے گھر ہیں، ایک بیٹا 9 ارب کے گھر میں رہتا ہے، وہ پاناما پیپرز کےانکشاف کے جواب نہیں دے سکے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے سفیر کا بھیجا گیا مراسلہ دوبار قومی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا، مراسلے میں سفیر نے واضح طور پر تصدیق کی کہ کس طرح کی دھمکی دی گئی تھی ان کو پہلے سے پتہ تھا کہ تحریک عدم اعتماد آرہی ہے، دھمکی دی گئی کہ اس عدم اعتماد کو کامیاب کرنا ہے، اب تو سب کچھ واضح ہوچکا ہے، اب تو ان کو بھی ماننا پڑا کہ سارا کچھ تصدیق شدہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ سب کچھ یورپ، انگلینڈ اور دیگر ملکوں کو نہیں پتہ، انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں آپ کو اپنے سیاستدانوں سے پوچھنا چاہیے، خط لکھنا چاہیےکہ یہ جو ہوا ہے کیا آپ اپنےملک میں ہونے دینگے، کم از کم لیٹر ٹودی ایڈیٹر لکھیں یا سوشل میڈیا پر بھی مہم چلا سکتے ہیں، آپ اس مہم میں ضرور شرکت کریں کیونکہ وہاں پر آپ کی آواز اثر کرتی ہے، جب آپ مہم چلاتے ہیں تو لوگوں کو متاثر کرتی ہے، اس معاملے پر اپنی آواز ضرور اٹھائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں