site
stats
خیبر پختونخواہ

فاٹا کو جلد از جلد خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے، عمران خان

پشاور : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہایت ضروری امر ہے۔

سربراہ تحریک انصاف پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کے ہمراہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پشاور اور لاہو ر میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر ذور دیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے جہاں سے دہشت گرد آ کر ملک کے دورے حصوں میں کارروائیاں کرتے ہیں اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کردیا جائے تاکہ اس علاقے کے مسائل کو حل کر کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کھڑا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سیکیورٹی صورتِ حال انتہائی خراب ہے جس کے باعث دہشت گردی کی ایک نئی لہر آ رہی ہے اس لیے ہماری ایجنسیوں سمیت سب لوگوں کو آپس میں تعاون اور ربط کو بڑھانا پڑے گا۔

انہوں نے فاٹا کے خیبرپختونخواہ کے ساتھ ضم کرنے کی ضرورت پر ذور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان سے فائدہ اٹھانا ہے تو جتنی جلدی ممکن ہو سکے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کریں اور اس کام میں تاخیر کی گئی تو اس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے پاس وسائل نہیں ہیں اور قبائلی علاقوں کا سارا نظام تباہ ہوچکا ہے اس لیے اگر وہاں بلدیاتی حکومتیں قائم کردی جائیں تو اس طریقے سے قبائلی عوام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور وہاں بھی ترقی ہو سکتی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان کے مطالبے کی پوری حمایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فاٹا کو فی الحال 50 ارب روپے مل رہے ہیں لیکن پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد فاٹا کو سالانہ 80 سے 100 ارب روپے ملیں گے۔

اس موقع پر پرویز خٹک نے اسپتال میں موجود میڈیا نمائندگان اور لواحقین سے اپیل کی کہ وہ مریضوں کی سہولت کے لیے اسپتال سے باہر چلے جائیں تاکہ مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے اسپتال کا دورہ کرنے والے سیاسی رہنماﺅں نے سے اپیل کی کہ وہ میڈیا سے گفتگواسپتال کے باہر کریں تاکہ ڈاکٹرز کو مریضوں کی دیکھ بھال میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top