site
stats
پاکستان

پاکستان میں سیاست ایک نئے رخ کا تعین کررہی ہے، عمران خان

imran khan

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست ایک نئے رخ کا تعین کررہی ہے، شریف خاندان نے اپنے مفاد کے لیے ملک کے اداروں کو تباہ کیا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خوشی ہے سردار آصف، احمد علی دوبارہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے، ہم قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں جہاں ادارے مضبوط ہوں، ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں شخصیت اداروں کو کنٹرول نہ کرے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ منی لانڈرنگ کرکے پیسہ باہر بھجوایا جارہا تھا اور ادارے خاموش تھے، شریف خاندان نے اپنے ذاتی نوکروں کو اداروں میں تعینات کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کرپشن کی ایک نئی کہانی شروع کردی ہے، ڈیولپمنٹ فنڈ کے نام پر 94 ارب روپے ایم این ایز کو دئیے جارہے ہیں، ایم این ایز کو کیسے فنڈز دئیے جارہے ہیں، کیا خریدنے کی کوشش ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی میں قبضہ گروپس سیاست میں آگئے تھے اور جائیداد بڑھا رہے تھے، ان لوگوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں جائیداد دیکھ لیں، پی ٹی آئی کی ٹیم میں شامل ہونے والا اپنے لیے نہیں ملک کے لیے کھیلے گا، احتساب کا عمل مجھ سے شروع ہوگا اور سب کا بلا تفریق احستاب ہوگا۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ چار سال خیبرپختونخوا میں حکومت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے، کوئی بتادے اگر میں نے ایک کلاس فور کا شخص بھی بھرتی کرایا ہو، اقتدار سے فائدہ نہیں اٹھا رہا اور چاہوں گا میری ٹیم بھی ذاتی فائدہ نہ اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کو بہتر کروں گا، ویسا نہیں ہونے دوں گا جیسا سمجھا جارہا تھا، اقتدار سے میں نہ میرے رشتے دار فائدہ اٹھائیں گے اور نہ اٹھانے دوں گا، اقتدار میں آکر ڈسٹرکٹ ناظم کے براہ راست الیکشن کرائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پرانی سیاست اب نہیں چلے گی، مک مکا کا دور گزر گیا اب احتساب ہوگا، اقتدار میں آکر کسی ایم این اے اور ایم پی اے کو فنڈز نہیں دیں گے، ٹکٹ لینے والوں کو ابھی سے بتارہا ہوں کسی کو ترقیاتی فنڈز نہیں ملیں گے۔

یہ پڑھیں: عمران خان نے ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کردیا


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top