The news is by your side.

Advertisement

”عمران خان وزیر اعظم رہے تو آئندہ کے دن مشکل ہوں گے“

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں سے خصوصی ملاقات ختم ہوگئی جس میں انہوں نے دھمکی آمیز خط کے چند مندرجات صحافیوں کو بتائے۔

اے آر وائی نیوز کے سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات ختم ہوگئی، ملاقات میں وزیر اعظم نے دھمکی آمیز خط کے چند مندرجات سینئر صحافیوں کو بتائے، ملاقات میں 14 سینئر صحافی موجود تھے۔

ارشد شریف کے مطابق خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے  مسائل کم ہوں گے، ہم خوش نہیں، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو سب ٹھیک ہوگا، اگر عمران خان وزیر اعظم رہے تو آئندہ کے دن مشکل ہوں گے۔

ارشد شریف کے مطابق خط میں تحریک عدم اعتماد کا متعدد بار ذکر کیا گیا ہے، خط میں وزیر اعظم کےدورہ روس پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خط کس ملک سے آیا کس نے لکھا یہ نہیں بتایا گیا، خط کے مندرجات میں حکومت کی تبدیلی کی بات کی گئی، پاکستان کو کھلی دھمکی دی گئی، خط میں خارجہ پالیسی اور مستقبل کے تعلقات کو جوڑ دیا گیا۔

اینکر پرسن کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ دھمکی آمیز خط عسکری حکام سے شیئر کیا جاچکا ہے، پارلیمنٹ میں ان کیمرا سیشن میں خط سامنے رکھا جائے گا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ ان کیمرا سیشن میں مندرجات سامنے لائیں گے، خط کے مندرجات عوام کے سامنے بھی رکھوں گا۔

اے آر وائی نیوز کے سینئر اینکر پرسن کاشف عباسی نے کہا کہ دھمکی آمیز خط ایک میٹنگ کے منٹس پر مشتمل ہے۔

ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے عدم اعتماد میں بچنے کے کتنے فیصد چانسز ہیں؟ اس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہمارے بچنے کے 80 فیصد چانسز ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں