The news is by your side.

Advertisement

وہ ڈراما جسے متعدد زبانوں‌ میں فلمایا گیا‌

امتیاز علی تاج کے ڈرامے ’’انار کلی‘‘ کو ان کا شاہ کار مانا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کو اس دور میں بہت زیادہ اہمیت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔

اردو کے ممتاز ادیب اور مشہور ڈراما نگار امتیاز علی تاج نے اپنے اس ڈرامے کے پلاٹ، کردار، مکالمے اور اس کی پیش کش کو ہر اعتبار سے بے مثال بنایا اور نام ور نقادوں اور تخلیق کاروں سے اس پر داد وصول کی۔

اس ڈرامے کی مقبولیت اور اس کہانی میں شائقین کی دل چسپی و کشش کو دیکھتے ہوئے فلم ساز بھی اس طرف متوجہ ہوئے اور انار کلی کو متعدد بار فلمی پردے پر پیش کیا گیا۔ یہ فلمیں‌ اردو ہندی کے علاوہ ملیالم، تیلگو اور دیگر علاقائی زبانوں‌ میں‌ بنائی گئیں جنھیں‌ بہت پسند کیا گیا۔ مشہور ہے کہ امتیاز علی تاج نے محض 22 سال کی عمر میں‌ یہ ڈراما لکھ لیا تھا اور یہ ان کی ذہانت اور کمالِ فن کا اظہار ہے۔

ہم یہاں‌ امتیاز علی تاج کے تحریر کردہ ڈرامے پر بننے والی چند فلموں کا تذکرہ کررہے ہیں جو نہ صرف اس دور میں اردو ڈراما کی ترقی اور اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ فلم سازوں نے بھی اس کہانی پر کام کرکے خاموش و ناطق فلموں‌ کے ذریعے‌ اپنی صلاحیتوں‌ کا اظہار کیا اور نام و مقام بنایا۔

ہندوستان کی تاریخ میں‌ شاہانِ وقت اور ولی عہد کی محبت، نفرت، دوستی اور دشمنی کی داستانوں کو کہانیوں، تاریخی ناولوں اور ڈراموں‌ کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے اور اُردو کے اس مشہور و معروف ڈرامے کا مرکزی اور سب سے اہم کردار بھی انار کلی ہے جو ایک کنیز تھی۔ یہ کنیز ولی عہدِ سلطنتِ ہند کی جیون ساتھی تو نہ بن سکی، لیکن مشہور ہے کہ درباری سازشوں نے اسے زندہ دیوار میں چُنوا دیا۔

اکبرِاعظم کے دور کی اس کنیز کا تذکرہ قصّے کہانیوں، فلموں، تاریخ کی کتب میں موجود ہے اور اسی کے ساتھ شہزادہ سلیم (جہانگیر) کا نام بھی آتا ہے جو انار کلی پر مر مٹے تھے۔

اب چلتے ہیں‌ اس ڈرامے پر مبنی فلموں کی طرف جن میں‌ 1928 کی دو فلمیں‌ ایک انار کلی اور دوسری لوَ اینڈ مغل پرنس کے نام سے پیش کی گئی تھی۔ یہ خاموش فلمیں‌ تھیں۔ 1935 میں‌ پہلی ناطق ہندی فلم بھی انار کلی کے نام سے سامنے آئی جب کہ 1953 میں اردو زبان میں‌ پھر انارکلی کے ٹائٹل سے سنیما کے شائقین نے یہی کہانی دیکھی، اسی نام سے 1955 میں تیلگو زبان میں فلم سامنے آئی جب کہ اردو زبان میں 1958 میں‌ پھر انار کلی بڑے پردے پر پیش کی گئی۔

1960 میں اسی کھیل کو مغلِ اعظم کے نام سے اردو اور ہندی میں فلمی پردے پر پیش کیا گیا، ملیالم زبان میں 1966 میں انار کلی کے ٹائٹل سے بھی یہی کھیل پیش کیا گیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھارت اور پاکستان میں فلمی صنعت کے قیام اور ابتدائی زمانے میں معروف اور غیرمعروف فلم سازوں نے امتیاز علی تاج کے اس ڈرامے میں ضروری تبدیلیوں کےساتھ اسے پردہ سیمیں پر پیش کیا اور خود مصنف نے بھی اپنے ڈرامے پر بننے والی فلم میں اداکاری کی۔

ڈراما انار کلی پر بننے والی فلموں میں مغلِ اعظم اور انار کلی قابلِ ذکر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں