The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں قمیض شلوار پہننا بھی جرم بن گیا، مسلم نوجوان پر بدترین تشدد

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے ثقافت کے نام پر مسلمان نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، پولیس تاحال ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں سست روی کا شکار ہے۔

نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت میں مسلم کشی اور ہندو انتہا پسندی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، مسلمان پر تشدد کا تازہ واقعہ بھارتی کی ریاست مہاراشٹرا میں رونما ہوا جہاں مسلمانوں کا قمیض شلوار پہننا بھی جرم بن گیا۔

مہاراشٹرا میں انتہا پسند ہندوؤں کا ہجوم کرتا قمیض پہننے مسلمان نوجوان پر ٹوٹ پڑا اور اسے سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

نوجوان پر تشدد کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر ہوئی، جس میں متعدد افراد کو ایک نہتے نوجوان پر لاتیں اور مکے برساتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے پر مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے لباس اور مذہبی شناخت کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنانا اب بھارت میں معمول بن گیا ہے اور ان جرائم میں ملوث افراد کو درپردہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مئی میں ریاست اترپردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمان نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جو موٹر سائیکل پر گوشت سپلائی کرنے جارہا تھا۔

بھارتی پولیس نے نوجوان کے اہل خانہ کی جانب سے شکایت درج کروانے کے باوجود ناصرف ملزمان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز کیا بلکہ متاثرہ نوجوان محمد شاکر کو گرفتار کرلیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں