The news is by your side.

Advertisement

مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے بھارتی معیشت بیٹھ گئی

لدھیانہ میں سائیکل اور آگرہ میں جوتے بنانے کی صنعتیں بند ہوگئیں، 4 کروڑ دفتری ملازم بے روزگار

نئی دہلی: انتہا پسند اور جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار کی حکومت میں بھارت کی معیشت بیٹھ گئی، مودی سرکار کی پالیسیوں سے بھارت تیزی سے ابھرتی معیشت کا اعزاز کھو بیٹھا اور شرح نمو کم ترین سطح پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی معیشت کی شرح نمو 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، جولائی تا ستمبر بھارتی معاشی شرح نمو ساڑھے 4 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جولائی تا ستمبر بھارتی معیشت کی شرح نمو 7 فیصد تھی، رواں سال اپریل سے جون 2019 میں بھارت شرح نمو 5 فیصد تھی۔

اسی طرح بھارت میں بے روزگاری کی شرح بھی 40 سال کی بلند ترین سطح پر آگئی۔ آٹو سیکٹر میں بھی بے انتہا سست روی اور صارفین کی قوت خرید میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

کچھ عرصہ قبل بھارتی ماہر معاشیات پروفیسر ارون کمار نے بی بی سی میں شائع اپنے ایک کالم میں لکھا کہ 15 ماہ قبل بھارت کی معیشت 8 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی تھی جو اب نصف ہوچکی ہے۔

ان کے مطابق بھارت میں چاروں طرف سے معاشی سست رفتاری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ لدھیانہ میں سائیکلوں اور آگرہ میں جوتے جیسی صنعتوں سے وابستہ غیر منظم شعبے بڑی تعداد میں بند ہو چکے ہیں۔

پروفیسر ارون کمار کے مطابق 3 برسوں میں بھارتی معیشت کو تین بڑے جھٹکے لگے ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ملازمین کی تعداد 45 کروڑ تھی جو کم ہو کر 41 کروڑ رہ گئی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں