site
stats
اہم ترین

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے‘ ملیحہ لودھی

Maleeha Lodhi

 

نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیرخارجہ کی تقریرکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں‌ پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیرخارجہ کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا۔

ملیحہ لودھی نے بھارت کو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سرپرست اعلیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھکنڈے کے طور پراستعمال کرتا ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندر مودی گجرات میں مسلمانوں کےقتل عام میں ملوث رہا ہے جبکہ بھارت میں کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اس پر بھارتی قبضہ غیرقانونی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیں اور فریقین تنازعہ حل نہ کرسکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کے پابند ہیں۔


عالمی یوم امن کے موقع پر بھارتی جارحیت و بربریت، 6 معصوم شہری شہید


اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکہ اور جارحیت ہے جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کررہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو سیزفائر کی خلاف ورزی سے روکے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے لیکن مذاکرات کے لیے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔


بھارت نےمحدود جنگ کی پالیسی نہ بدلی تومنہ توڑ جواب ملےگا‘ وزیراعظم


یاد رہے کہ دو روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوج تعینات کررکھی ہے جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے ایل او سی کو پارکرنے کی کوشش کی یا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کی پالیسی پرعمل درآمد کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top