The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں طالب علم داڑھی رکھنے پر تعلیم سے محروم

دہلی: بھارت کے ایک کالج میں مسلمان طالب علم کو داڑھی رکھنے کی پاداش میں کالج چھوڑنا پڑا، مذکورہ طالب علم نے ضلع انتظامیہ سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نام و نہاد جمہوریت کے دعویدار بھارت میں انتہاء پسندی آج بھی اپنے عروج پر ہے، مسلمانوں کو اکثروبیشتر مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی ایک اور مثال میڈیکل کالج کے ایک مسلمان طالب علم کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سامنے آئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع بڑھوانی میں ارہنت ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کے ایک مسلمان طالب علم اسد خان بڑھوانی نے الزام عائد کیا ہے کہ داڑھی رکھنے کی وجہ سے کالج کی انتظامیہ نے اس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ اسے اپنی تعلیم سے محروم ہونا پڑا۔

دوسری جانب کالج کے پرنسپل ایم کے جین نے ان الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ طالب علم نے کالج سے ٹرانسفر لینے کی درخواست دی تھی اورانہیں ٹرانسفر سرٹیفیکیٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ پرنسپل ایم کے جین نے کہا کہ ہم نے کبھی داڑھی کٹوانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ ہمارے کالج میں اور طالب علم بھی داڑھی رکھتے ہیں۔

ضلع بڑھوانی کے مجسٹریٹ تیجسوی ایس نائیک نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں طالب علم نے شکایت درج کروائی تھی کہ داڑھی رکھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا اور اب اس معاملے کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

طالب علم اسد خان کا کہنا ہے کہ میں نے دسمبر 2013 میں اس کالج میں داخلہ لیا تھا اور اس وقت میری داڑھی نہیں تھی اور بعد میں داڑھی رکھنے پر کالج کے پرنسپل ایم کے جین نے ان پر بار بار داڑھی کٹوانے کا دباؤ ڈالا تھا۔ میں نے تین ماہ تک اسے نظر انداز کیا۔ اس دوران مجھے کلاس سے باہر بھی نکال دیا جاتا تھا۔

جب میں نے کہا کہ داڑھی رکھنا میرا حق ہے اور میں نہیں كٹواؤں گا تو میرے کالج میں داخلے پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ اسد نے اپنی شکایت کے ساتھ ضلع انتظامیہ کو فون کالز کے ریکارڈ اور پرنسپل کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی ویڈيو سی ڈیز ثبوت کے طور پر پیش کی ہیں۔

اگست 2016 میں کالج نے اسد کو ٹرانسفر سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا تاہم اسد نے الزام لگايا ہے کہ ’کالج نے دوسرے سال کی میری حاضری صفر دکھا دی ہے جس کی وجہ سے میں کہیں داخلہ نہیں لے سکتا۔ یہ سراسر غلط ہے اس کی تفتیش ہونی چاہیے۔‘

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں