site
stats
عالمی خبریں

گاوٗ رکھشا جیسے اقدامات سے فسادات ہوسکتے ہیں : بھارتی مسلم رہنماء

احمدآباد: بھارتی مسلم رہنماء نے تنبیہہ کی ہے کہ ریاست کی جانب سے’’گاؤرکھشا تحریک‘‘ کے تحت مبینہ قرآنی آیات کی ترویج جن میں گوشت کھانے کی ممانعت کی گئی ہے فساد کا باعث بن سکتی ہے۔

بھارتی ریاست گجرات میں حکومت کی جانب سے بل بورڈز آویزاں کئے گئے ہیں جن پر مبینہ قرآنی آیت درج ہے جس کے مطابق گائے کا گوشت کھا نا بیماریوں کا باعث بنتا ہے، بل بورڈ پرچاند ستارے کا اسلامی نشان بھی بنا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ انتہا پسند ہندوٗں کی جانب سے ہندو مذہب میں مقدس قرار دی جانے والے گائے کی حرمت برقرار رکھنے کے لئے طویل عرصے سے ذبح پرپابندی کا مطالبہ کیا جارہاہے اوربھارت کے انتہا پسند وزیراعظم نریندرمودی کے برسرِاقتدارآنے کے بعد اس مطالبے نے شدت اختیارکرلی ہے۔

بھارت کی کئی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر اور گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کی جاچکی ہے جسے ناقدین کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک قراردیا جارہا ہے۔

گجرات کے شہر احمد آباد کی مرکزی مسجد کے پیش امام شبیرعالم نے اسے اسلام کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی آیت وجود نہیں رکھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بل بورڈز نصب کرنے سے اشتعال پھیل سکتا ہے اورہندؤں اور مسلمانوں کے تعلقات تشدد کی جانب جاسکتے ہیں۔

انہوں نے گجرات حکومت کے اس عمل کی انتہائی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایسی بات جو کہ قرآن میں موجود نہ ہو اور اسے قرآن سے منصوب کرکے پیش کیا جائے اسلام کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔

واضح رہے کہ گجرات میں پہلے بھی2002 میں ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں مسلمان تہہ تیغ کردئیے گئے تھے، اس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اور اس واقعے کے بعد طویل عرصے تک انہیں ’’گجرات کے قصائی‘‘ کے نام سے پکارا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top