بھارت میں ادیب بھی ہندو انتہا پسندوں کے شر سے محفوظ نہیں -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں ادیب بھی ہندو انتہا پسندوں کے شر سے محفوظ نہیں

نئی دہلی: بھارت میں ادیب بھی ہندو انتہا پسندوں کے شر سے محفوظ نہیں۔ ایک معروف ادیب کو قتل کرنے کے بعد ایک اور ادیب کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

بھارت کی ریاست کرناٹکا کے مشہور مصنف کے ایس بھگوان آج کل ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں سے پریشان ہیں، انتہا پسند ہندوؤں نے بھگوان پر اپنی مقدس کتاب گیتا کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرنے کا الزام لگایا ہے۔

بھگوان نے بتایا کہ انہیں خط کے زریعے قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ کرناٹک کے مشہور ادیب اور مقامی کالج کے پروفیسر کالبرگی کو ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کر کے قتل کردیا تھا۔ پولیس کالبرگی کو تو تحفظ فراہم نہیں کر سکی تاہم بھگوان کی جان بچانے کے لئے انہیں چار پولیس اہلکار فراہم کر دیئے گئے ہیں۔

بھگوان نے جان کے خوف سے اپنی نقل و حرکت بھی محدود کردی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں