The news is by your side.

Advertisement

بھارتی مصنفہ نے "انٹرنیشنل بکر پرائز” جیت لیا، یہ اعزاز کیسے دیا جاتا ہے؟

بھارتی مصنفہ گیتانجلی نے سال 2022کا "انٹرنیشنل بُکر پرائز” جیت لیا، انہیں یہ عالمی اعزاز تقسیم ہند کے تناظر میں لکھے گئے ناول "ریت سمادھی” پر دیا گیا ہے۔

یہ ہندی زبان کی پہلی کتاب ہے جس کے ترجمے کو کتابوں کی دنیا کا معتبر عالمی اعزاز دیا گیا ہے، ریت سمادھی بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔

گزشتہ روز دی بکر پرائز کے ٹوئٹر ہینڈل سے 2022 کے بکر ایوارڈ جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا جس میں گیتانجلی کو اس اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔

لندن میں ہونے والی تقریب میں جیوری کے سربراہ فرینک وائن نے کہا کہ ٹومب آف سینڈز کو بھرپور بحث‘ کے بعد کثرت رائے سے اس سال کا انٹرنیشنل بکر پرائز سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سے پہلے انہوں نے اس ناول جیسا کچھ نہیں پڑھا تھا۔

لندن میں یہ اعزاز وصول کرتے ہوئے گیتانجلی شری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی بُکر پرائز کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا، میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا کہ میں یہ اعزاز حاصل کرسکتی ہوں۔

یہ ناول برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں جنم لینے والی کہانیوں میں سے ایک کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ایک 80 سالہ خاتون اور اس کی بیٹی کی کہانی ہے جس کی یادوں میں تقسیم کی تلخیاں اوراپنے بچپن کے واقعات کا گہرا اثر ہے، اپنے خاوند کے انتقال کے بعد وہ ان یادوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ڈیپریشن سے پیچھا چھڑانے کے لیے لاہور کا سفر کرتی ہیں۔

May be an image of 1 person and text that says "The 2022 International Booker Prize NING AUTHO"

بکر پرائز کیا ہے، کیسے دیا جاتا ہے؟
جون 2004 میں فکشن سے منسوب بہت اہم ادبی ایوارڈ "مین بکر پرائز” کی طرف سے اس کیٹیگری کا اعلان کیا گیا تھا جو2005 سے2015 تک ہر دوسرے سال کسی بھی ایسے مصنف یا مصنفہ کو دیا جاتا رہا۔

جن کی تصانیف انگلش یا انگلش ترجمے کی صورت میں باآسانی دستیاب ہوں چونکہ مین بکر پرائز محض دولت مشترکہ کے ممالک، آئرلینڈ اور زمبابوے تک محدود تھا اس لیے اس انٹرنیشنل ایوارڈ سے دیگر بین الاقوامی ادیبوں کے لیے جیسے ایک نئی کھڑکی کھل گئی تھی۔

مین بُکر پرائز : برطانوی مصنفہ ہلیری مینٹل کے نام یہ ایوارڈ دیتے وقت مصنف یا مصنفہ کی مسلسل تخلیقی صلاحیت، ترقی اور عالمی سطح پر افسانوی ادب میں مجموعی شراکت مدنظر رکھی جاتی تھیں۔

گیتانجلی شری کون ہیں؟

بھارتی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی 65 سالہ گیتانجلی شری اب تک پانچ ناول اور کئی افسانے تحریر کر چکی ہیں لیکن ادبی منظر نامے پر ان کی بھرپور انٹری ‘مائی‘ سے ہوئی۔ یہ ناول ہندوستان کے مٹتے ہوئے مقامی رنگوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

اس کا مرکزی کردار ایک خاموش طبع اور سر جھکا کر جینے والی ایک گھریلو خاتون ہے۔ مائی کے دو بچے سبودھ اور سونینا نئی نسل کا روپ اور روایتی ہندو گھرانے میں بغاوت کی آواز ہیں، جو مائی میں خاندانی بندشوں کے خلاف کوئی شعلہ بیدار نہیں کر سکتیں۔

معروف ادیب انتظار حسین کو مائی پڑھ کر سیتا جی یاد آئیں۔ وہ مائی کو سیتا جی کی طرح ہندو تہذیب کی آدرشی عورت کے طور پر دیکھتے تھے۔

مین بکر پرائز اور انٹرنیشنل بکر پرائز میں کیا فرق ہے؟

مین بکر پرائز اور اس کے ذیلی انعام انٹرنیشنل بکر پرائز دونوں کو مختصر طور پر بکر پرائز کہا جاتا ہے جبکہ یہ دونوں مختلف ایوارڈز ہیں۔

انٹرنیشنل بکر پرائز ہر سال بعد کسی غیر انگریزی ناول کے انگریزی ترجمے کو دیا جاتا ہے جبکہ مین بکر پرائز اصل انگریزی زبان میں لکھے ناول کو دیا جاتا ہے۔

تو اس حوالے سے کہنا یہ ہے کہ گیتانجلی پہلی انٹرنیشنل بکر پرائز حاصل کرنے والی ہندوستانی ادیب ضرور ہیں لیکن یاد رہے کہ مین بکر پرائز ان سے پہلے بھی تین ہندوستانی ادیب حاصل کر چکے ہیں۔

جن میں ارون دھتی رائے سال1997 میں "گاڈ آف اسمال تھنگس” کے لیے۔ کرن دسائی سال2006 میں "دی لوس آف انہیری ٹینس” کے لیے اور آروند اڈیگا کو سال2008 میں "دی وائٹ ٹائیگر” پر دیا گیا۔

 

 

Comments

یہ بھی پڑھیں