The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں زخمی پرندوں کا علاج کیوں نہیں کیا جاتا؟

نئی دہلی: آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بھارت میں زخمی پرندوں کے علاج کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن بھارتی دارالحکومت میں دو ایسے بھائی بھی رہتے ہیں جنھوں نے خود کو زخمی پرندوں کے علاج کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

جب ان بھائیوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ کوئی بھی زخمی پرندوں کا علاج نہیں کرنا چاہتا، تو وہ حیران ہوئے، اور انھیں افسوس بھی ہوا، معلوم ہوا کہ زخمی پرندے دراصل ’بدشگونی کی علامت‘ ہیں، اور اسی لیے وہ علاج سے محروم رہتے ہیں۔

بھارت کی راجدھانی کے آسمان پر مختلف اقسام کے شکاری پرندے اڑان بھرتے ہیں، ان کی ایک بڑی تعداد ہر ہفتے بجلی کے تاروں، پتنگوں کی ڈور، گاڑیوں کے نیچے آکر یا دیگر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے زخمی ہو جاتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ تھی کہ ان کی ’کراہیں‘ سننے والا کوئی نہ تھا۔

لیکن کچھ عرصے سے نئی دہلی میں ندیم شہزاد اور محمد سعود نامی دو بھائی ان زخمی پرندوں کے لیے مسیحا بنے ہوئے ہیں، خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو انھیں ایک پرندہ زخمی حالت میں ملا، جس نے ان کی سوچ کو ایک راستہ دے دیا۔

انھوں نے کہا وہ زخمی پرندے کو جانوروں کے ایک ایسے اسپتال لے گئے تھے جو صرف سبزی خور جانوروں کے لیے تھا، اسپتال پہنچنے پر انھیں مایوسی ہوئی کیوں کہ وہاں کے طبی عملے نے اس پرندے کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد انھوں نے زخمی شکاری پرندوں کا علاج اپنے گھر ہی پر شروع کر دیا۔

یہ دونوں بھائی ایک امدادی گروپ چلاتے ہیں جو زخمی جانوروں اور پرندوں کے لیے کام کرتا ہے، تاہم ایسا کرنے میں دونوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کیوں کہ زخمی جانوروں اور پرندوں کو برا شگون سمجھا جاتا ہے، اس لیے چند ہی لوگ ان کے ادارے وائلڈ لائف ریسکیو کو امداد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

44 برس کے ندیم شہزاد نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’انڈیا میں یہ توہم پرستی عام ہے کہ شکاری پرندے بد قسمتی کی نشانی ہوتے ہیں، انھیں زیادہ لوگ پسند نہیں کرتے بلکہ کئی تو ان سے نفرت کرتے ہیں۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں