بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات 5 افسران کے را ایجنٹ ہونے کا انکشاف
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات 5 افسران کے را ایجنٹ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: بھارتی ہائی کمیشن کے مزید تین افسران کے را کے لیے کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد آج پکڑے گئے ایسے سفارت کاروں کی تعداد پانچ ہوگئی۔

یہ پڑھیں: بھارتی سفارت کار پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں ملوث

 تفصیلات کے مطابق سفارت کاری کی آڑ میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، بھارتی ہائی کمیشن کے دو افسران بلبیر سنگھ اورراجیشن کمار کے دہشت گردی میں ملوث ہونے اور انہیں ناپسندیدہ قرار دیےجانے کے آج ہونے والے انکشاف کے بعد مزید تین ویزا آفیسر بھی را کے ایجنٹ نکل آئے۔

نمائندہ اسلام آباد ذوالقرنین حیدر کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کے تین اہلکار وجے کمار ورما، امردیپ سنگھ اور مدوھان نندا بھارتی خفیہ ادارے را کے ایجنٹ ہیں جو ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں انہیں بلوچستان میں بدامنی کے حوالے سے کئی ٹاسک دیے گئے تھے۔

رپورٹر کے مطابق تینوں اہلکار کمرشل اتاشی ، ویزا آفیسر کے فرائض انجام دیتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں بھارتی اہلکاروں کا تعلق گرفتار بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک سے ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے تینوں اہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کیے جانے کا قومی امکان ہے۔

قبل ازیں آج ہی دو بھارتی سفارت کاروں بلبیر سنگھ راجیش کمار کے بھی بھارتی ایجنٹ ہونے اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد دونوں افسران کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی کا افسر بلبیر سنگھ فرسٹ سیکریٹری پریس انفارمیشن کے لبادے میں تعینات تھا, بلبیر سنگھ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا جب کہ راجیش کمار اگنی ہوتری بھی دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا اور یہ کمرشل قونصلر کے طور پر تعینات تھا۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے ملک بدر کیا جانے والا سرجیت سنگھ بھی بلبیر سنگھ کے نیٹ ورک کا حصہ تھا، ‏سرجیت سنگھ نےعبد الحفیظ کے نام سے موبائل فون کمپنی کا جعلی کارڈ بھی بنوایا ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے کئی اہلکاروں کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور آئی بی بھارت سے ہے ان میں سے اب تک چھ سامنے آچکے ہیں، پانچ نام آج سامنے آئے جب کہ ایک سفارت کار سرجیت سنگھ کو 29 اکتوبر کو اہل خانہ سمیت ملک بدر کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ناپسندیدہ بھارتی سفارتکار اہل خانہ سمیت ہندوستان روانہ

ذرائع کے مطابق سرجیت سنگھ کی سرگرمیاں ویانا کنونشن کے خلاف تھیں۔

آج 5 مزید اہلکاروں کے ایجنٹ ہونے کے انکشاف کے بعد سے اب تک تاحال بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے افسر محمود اختر کو دہلی پولیس نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا تاہم کچھ دیر بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا بعدازاں انہیں 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے  دیا گیا تھا۔

اسی سے متعلق: نئی دہلی: پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کی گرفتاری و رہائی، ملک چھوڑنے کا حکم

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں