site
stats
عالمی خبریں

خواتین اپنے ساتھ زیادتی کی خود ذمہ دار ہیں: بھارتی سیاستدان

نئی دہلی: بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے بعد متنازعہ بیانات نے ایک بار پھر طوفان کھڑا کردیا۔ اس بار یہ بیان بھارتی سیاستدانوں نے دیا ہے جن میں کرناٹک کے وزیر داخلہ بھی شامل ہیں۔

اپنے بیانات میں بھارتی سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ سال نو کے جشن کے دوران بنگلور میں خواتین کے ساتھ ہونے والے بدسلوکی کے واقعات کی ذمہ دار خواتین خود ہیں۔

مزید پڑھیں: نربھے ریپ کیس ۔ مجرم نے مقتولہ کو ہی زیادتی کا ذمہ دار قرار دے دیا

واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں نئے سال کا جشن اس وقت ناخوشگوار صورتحال میں تبدیل ہوگیا جب نشے میں دھت افراد نے وہاں موجود خواتین کو بری طرح ہراساں کیا اور ان سے بدسلوکی کی۔ بعد ازاں منظر عام پر آنے والی فوٹیج میں متعدد لڑکیوں اور خواتین کو روتے ہوئے دیکھا گیا۔

واقعہ کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ پایا جارہا تھا کہ بھارتی سیاستدانوں کی جانب سے دیے گئے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ملک بھر میں طوفان کھڑا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں خواتین پر حملوں سے تحفظ کے لیے ’پینک‘ بٹن

بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور سے جب نیو ایئر کی شام پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا مغربی لباس دراصل مردوں کو ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

home-minister

کرناٹک کے وزیر داخلہ

انہوں نے کہا کہ جب خواتین مغربی لباس پہن کر باہر نکلیں گی تو اس طرح کے واقعات تو پیش آئیں گے۔

دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو اعظمی نے بھی ان واقعات کا ذمہ دار خود خواتین کو قرار دے دیا۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا، ’آج کل کے دور میں جو خاتون جتنا کم لباس پہنتی ہے، اسے اتنا ہی زیادہ فیشن ایبل سمجھا جاتا ہے۔ اگر میری بیٹی یا بہن بھی سورج غروب ہونے کے بعد رات دیر تک کسی اجنبی شخص کے ساتھ باہر رہے، تب بھی یہ غلط بات ہے‘۔

مزید پڑھیں: جنسی حملوں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

بھارتی سیاستدانوں کے ان بیانات کے بعد ملک بھر میں شدید اشتعال پایا جارہا ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور دیگر افراد نے کرناٹک کے وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top