بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

انڈین مسالوں کی ساکھ داؤ پر لگ گئی، بڑے خطرے کا سامنا

اشتہار

حیرت انگیز

انڈین مسالوں کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے، اور برآمدات پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

اقتصادی تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انشیٹیو (جی ٹی آر آئی) نے بدھ کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے آدھے سے زیادہ مسالوں کی غیر ملکی ترسیل کو خطرہ لاحق ہے، ہندوستان کو اپنے مسالوں کی برآمدات کے حوالے سے کوالٹی کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر دن مزید ممالک ہندوستانی مسالوں کے معیار کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جس سے انڈین مسالوں کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔

- Advertisement -

بھارت مسالوں کے ضمن میں دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر، صارف اور برآمد کنندہ ہے، 2022-23 میں انڈیا نے تقریباً 32 ہزار کروڑ روپے کے مسالوں کی برآمد کی، مرچ، زیرہ، مسالے کا تیل اور اولیوریسین، ہلدی، کری پاؤڈر اور الائچی برآمد کیے جانے والے بڑے مسالے ہیں۔

ہمارے مسالے 100 فی صد محفوظ ہیں، بھارتی کمپنی کی ڈھٹائی

جی ٹی آر آئی کے مطابق بھارتی 700 ملین ڈالرز کی برآمدات کا نصف حصہ خطرے سے دوچار ہو گیا ہے، اگر بات مزید آگے بڑھے گی تو مزید 2.5 ارب ڈالرز کی برآمدات کا نقصان ہوگا۔

جی ٹی آر آئی کے شریک بانی اجے سریواستو کے مطابق امریکا، ہانگ کانگ، سنگاپور، آسٹریلیا اور مالے نے ایم ڈی ایچ اور ایورسٹ کی مصنوعات کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں، بھارت نے مالی سال 2024 میں ان ممالک کو تقریباً 692.5 ملین امریکی ڈالرز کے مسالے برآمد کیے۔

انھوں نے کہا اگر چین نے بھی سنگاپور کے نقش قدم پر چل کر اسی طرح کے اقدامات کا فیصلہ کیا، تو انڈین مسالوں کی برآمدات میں ڈرامائی کمی دیکھی جائے گی۔

سریواستو نے کہا بھارتی حکام کا رد عمل نرم رہا ہے، معیار کو ریگولیٹ کرنے والی ایجنسیوں کے کام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اعلیٰ ہندوستانی فرموں کی مصنوعات کا معیار قابل اعتراض ہے تو اس سے ہندوستانی بازار میں دستیاب دیگر مسالوں کے معیار پر بھی شک پیدا ہوتا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں