The news is by your side.

Advertisement

جہانگیر پوری فسادات: مسلم آبادی پر کیا گزری؟ جانئے چشم کشا حقائق

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت کے علاقے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کئے گئے انسانیت سوز مظالم نے علاقہ مکینوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے اور انہوں نے اسے قیامت قرار دیا ہے۔

جہانگیر پوری میں ہندو اور مسلمان ہم آہنگی کے ساتھ رہتے چلے آرہے ہیں مگر گذشتہ ہفتے ہونے والے واقعات ان کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں، جس یاد کرتے ہوئے ان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔

ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق جہانگیر پوری کے رہائشی محمد عاقب نے بتایا کہ صبح جب ہنومان جینتی کے دو جلوس اس علاقے سے گزرے تو سب کچھ پرامن تھا، شام کے جلوس کے دوران تشدد اس وقت شروع ہوا جب میں نے لوگوں کو چیختے ہوئے سنا کہ وہ مسجد میں داخل ہو رہے ہیں۔میں بھی صورتحال دیکھ کر گھبرا گیا اور اپنی دکان بند کرنے کے لیے بھاگا، میں اپنی بیوی اور بچوں کے لیے پریشان تھا کیونکہ میں لوگوں کو ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے دیکھ رہا تھا۔

مسجد کے قریب رہنے والے جہانگیرپوری کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس روز افطار بھی وقت پر نہ ہوسکا ہم اتنے خوفزدہ تھے کہ ہم نے دن 2 بجے ہی روزہ توڑ دیا۔دہلی فسادات: ایک ہی معاملے میں دو عرضیاں دائر کر نے پر ہائی کورٹ نے دہلی  پولیس کو پھٹکار لگائیعلاقہ کے ایک دکاندار منوج مڈیا نے بتایا کہ میں اپنی دکان بند کرنے کے بعد گھر پہنچا، میں کئی سالوں سے اس علاقے میں رہ رہا ہوں اور میں نے اس قسم کا تشدد کبھی نہیں دیکھا، میرے پڑوسی مسلمان ہیں، لیکن ہمیں کبھی بھی فرقہ وارانہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ہم سب ہم آہنگی سے رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی رپورٹ نے بھارتی بربریت کا پردہ چاک کردیا

ایک اور رہائشی شیخ امجد نے بتایا کہ ہفتہ کی شام جب تشدد ہوا تو وہ مسجد کے اندر تھے، ہم نماز پڑھ رہے تھے کہ باہر جلوس اکٹھا ہوا اور ‘مارو ان غداروں کو’ کے نعرے لگانے لگے، ہم تو اپنی معمول کی رمضان کی رسومات ادا کر رہے تھے، اس میں کیا حرج ہے؟ کیا نماز پڑھنے سے غدار ہو جاتا ہے؟” اس نے سوال کیا؟

واضح رہے کہ دہلی پولیس نے فرقہ وارانہ فسادات پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 20 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، جن پر جھڑپوں کے پیچھے ’’بنیادی سازش کار‘‘ بھی شامل ہیں۔

سینئر پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں