The news is by your side.

بلقیس بانو کیس: مجرمان کی سزا میں رعایت کیخلاف درخواست دائر

نئی دہلی: گجرات کی عدالت کے بلقیس بانو کیس میں مجرمان کو سزا میں دی گئی رعایت کے خلاف سپریم کوڑت میں درخواست دائر کردی گئی۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور ایڈوکیٹ اپرنا بھٹ کے ‘خصوصی تذکرہ’ کے دوران جلد سماعت کی درخواست پر منگل کو اتفاق کیا۔

سال 2002 کے گودھرا فسادات کے دوران 14 لوگوں کے قتل اور ایک حاملہ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے قصوروار 11 لوگوں کو دی گئی رعایت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس رمنا کی سربراہی والی بنچ نے متعلقہ وکیل سے پوچھا کہ کیا رہائی سپریم کورٹ کے حکم کی بنیاد پر ہوئی۔

اس پر کپل سبل نے کہا کہ درخواست گزار عدالت عظمیٰ کے حکم پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں، بلکہ 11 قصورواروں کو چھوٹ دینے کی ‘بنیاد’ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

بلقیس بانو کیس: مجرموں کی جلد رہائی پر بھارت میں ہزاروں آوازیں اٹھ گئیں

وکلا نے سپریم کورٹ میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اجے رستوگی کی سربراہی والی بنچ نے گجرات حکومت کو بلقیس بانو کیس کے 11 ملزمان کو سزا سنائے جانے کے وقت "عملی طور پر چھوٹ” کے قوانین کو لاگو کرنے کی اجازت دی تھی۔

جسٹس رمنا کی سربراہی والی بنچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ درخواست جلد ہی مناسب بنچ کے سامنے درج کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 2002 میں گجرات فسادات کے دوران ایک گاؤں میں 11 افراد نے بلقیس بانو نامی مسلمان خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی تین سالہ بیٹی کو زمین پر پٹخ کر مارا تھا، جس سے بچی موقع پر ہی انتقال کر گئی تھی۔ اس انسانیت سوز واقعے کے بعد مقامی ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں نے بھی مجرموں کو بچانے کے لیے کیس میں رد و بدل بھی کیا۔

بلقیس بانو کے ساتھ زیادتی اور بچی کے قتل میں ملوث ان مجرموں کو 2008 میں عمر قید سنائی گئی تھی تاہم 16 اگست 2022 کو ان مجرموں کو گجرات کی حکومت نے معافی کی پالیسی کے تحت رہا کر دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں