The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرمان کے لیے عبرتناک سزائیں

انڈونیشیا میں بچوں کی جنسی زیادتی میں ملوث افراد کے لیے نئی سزائیں متعارف کروادی گئی ہیں۔ اب ان مجرموں کو سزائے موت دی جائے گی جبکہ انہیں آختہ کاری کے عمل سے بھی گزارا جائے گا۔

انڈونیشین صدر جوکو وڈوڈو کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں بچوں کی جنسی زیادتی کے جرائم میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث مجرموں کے لیے 14 سال قید کی سزا تھی۔ وہ مجرم جو اس جرم کی سزا کاٹ کر رہا ہوچکے ہیں ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے انہیں الیکٹرانک کڑا بھی پہنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے دوشیزگی کا ٹیسٹ لازمی قرار

نئے قوانین کے تحت بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو سزائے موت دی جائے گی یا اسے آختہ کاری کے عمل سے گزارا جائے گا جس کے بعد وہ اپنے مردانہ اعضا سے محروم ہوجائے گا۔

انڈونیشیا کے قوانین میں ان تبدیلیوں کی وجہ وہ واقعہ ہے جو گذشتہ برس اپریل میں پیش آیا جس میں جزیرہ سماٹرا میں ایک 14 سالہ بچی کو اسکول سے واپسی کے وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں اسے قتل کردیا گیا۔ واقعے سے انڈونیشین عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا۔

indonesia

انڈونیشین صدر کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا جب تک کہ پارلیمنٹ اسے کسی وجہ سے کالعدم قرار نہ دے۔ 2014 میں برسر اقتدار آنے والے صدر وڈوڈو اس سے قبل بھی اسمگلنگ کے لیے سخت قوانین متعارف کروا چکے ہیں۔

چند دن قبل ہی انڈونیشیا کی ایک مقامی حکومت ڈگری حاصل کرنے کے لیے لڑکیوں کے لیے دوشیزگی کا ٹیسٹ لازمی قرار دے چکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں