site
stats
پاکستان

سندھ طاس معاہدے پر پاک بھارت مذاکرات بحال

لاہور : بھارت نے آبی تنازعات پر مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کر دی ، واٹرکمشنرز کی سطح کے مذاکرات 20اور21مارچ کو لاہور میں ہوں گے، مذاکرات ستمبر 2016کو اڑی حملے کے بعد بھارت نے معطل کئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر معطل کیا جانے والا مذاکراتی عمل بحال ہوگیا ہیں ، بھارت آبی تنازعات پر بات چیت کیلئے آمادہ ہو گیا۔ بھارتی واٹر کمیشن کا وفد 19 مارچ کو واہگہ بارڈر کے راستے لاہور پہنچے گا، بھارتی وفد پی کے سیکسینا کی قیادت میں پاکستان پہنچے گا۔

انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا نے تصدیق کردی اور کہا ہے کہ واٹرکمشنرز کی سطح کے مذاکرات 20اور21مارچ کو لاہور میں ہوں گے، آخری مرتبہ ان کے اور بھارت کے واٹر کمشنر کے درمیان مئی 2015 میں ملاقات ہوئی تھی۔

بھارت کے انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا مذاکرات کی تیاری میں مصروف ہیں۔


مزید پڑھیں : سندھ طاس معاہدے پر پاک بھارت مذاکرات کا امکان ‌ہے، بھارتی اخبار


برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے نیلم پر کشن گنگا اور دریائے چناب پر رتلے پن بجلی منصوبے پر اعتراض اٹھائے تھے پاکستان نے ورلڈ بینک سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ان دونوں منصوبوں پر ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے پر ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو یہ تنازع انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر حل کرنا چاہیے، ورلڈ بینک نے دونوں ملکوں کو یہ معاملہ حل کرنے کے لیے مہلت دی تھی جو اس برس جنوری میں ختم ہو گئی ہے، س عمل کو عارضی طور پر روکنے کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو بچانا ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر 2016 میں بھارت نے اڑی کے فوجی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


مزید پڑھیں : بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی کیلئے اجلاس طلب


اڑی حملے کے بعد ستمبر 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرِ صدرات ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


مزید پڑھیں : خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، مودی


جس کے بعد مودی کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے جبکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا یہ راستہ نکالا گیا کہ بھارت دریائے سندھ، چناب اور جہلم کا پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کرے گا۔

واضح رہے کہ 1960میں پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق دریائے بیاس، راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کے پاس جبکہ دریائے سندھ ،جہلم اور چناب کا کنٹرول پاکستان کو دیا گیا تھا۔،

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top