The news is by your side.

Advertisement

30 سال بعد بڑی پریشانی، برطانوی صارفین کی چیخیں نکل گئیں

لندن: برطانوی صارفین کی چیخیں نکل گئیں، ملک میں مہنگائی کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

برطانوی دفتر شماریات کے مطابق جنوری 2022 میں برطانیہ میں مہنگائی 5.5 فی صد پر پہنچ گئی ہے، 1992 کے بعد برطانیہ میں پہلی بار اتنی مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بینک آف انگلینڈ نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافے کا اعلان کر دیا، شرح سود کو بڑھا کر 0.5 فی صد کر دیا گیا، 2004 کے بعد 3 مہینوں میں دوسری بار شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ دسمبر 2021 میں سود کی شرح 0.25 تھی۔

برطانیہ میں توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے اثرات اشیائے صرف اور سروسز کی قیمتوں میں زبردست اضافے کی صورت میں نمودار ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے گھریلو معیار زندگی پر بڑا دباؤ پڑا ہے۔

دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے مطابق کنزیور پرائسز انڈیکس یعنی مہنگائی کا پیمانہ مسلسل 13 ویں مہینے بڑھ کر گزشتہ ماہ 5.5 فی صد پر پہنچ گیا ہے، اور یہ کپڑوں، جوتوں اور فرنیچر کی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔

واضح رہے کہ ماہرین اقتصادیات نے افراط زر کی شرح 5.4 فی صد رہنے کی پیش گوئی کی تھی، ادارہ قومی شماریات کے مطابق افراط زر آخری مرتبہ مارچ 1992 میں سب سے زیادہ تھا، جب اس کی شرح 7.1 فی صد پر پہنچی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں