The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر فرقان کے انتقال کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل

وینٹی لیٹر موجود تھے، ڈاکٹر کو 3 اسپتالوں کو ریفر کیا گیا تھا لیکن وہ جانے پر آمادہ نہیں تھے: ترجمان محکمہ صحت

کراچی: کرونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے گزشتہ روز بے بسی میں جان دینے والے ڈاکٹر فرقان کے انتقال کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے ڈاکٹر فرقان کے معاملے میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کمیٹی کو انکوائری رپورٹ 24 گھنٹے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے اے آر وائی نیوز پروگرام الیونتھ آور میں ڈاکٹر فرقان کا واقعہ انتہائی افسوس ناک اور ناقابل وضاحت قرار دیا، انھوں نے کہا کہ انسانی جان گئی ہے کوئی وضاحت نہیں دے سکتا۔

دوسری طرف ترجمان محکمہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹر موجود تھے، ہمارے اسپتالوں میں 48 آئی سی یو بیڈز بھی دستیاب تھے، ڈاکٹر کو 3 اسپتالوں کو ریفر کیا گیا تھا لیکن وہ اسپتال جانے پر آمادہ نہیں تھے۔

کرونا سے متاثرہ ڈاکٹر فرقان کو وینٹی لیٹر نہ ملا، بے بسی کی حالت میں جان دے دی

محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فرقان کے گھر بروقت ایمبولینس پہنچ گئی تھی، ڈاکٹر فرقان اسپتال خود اپنی مرضی سے نہیں گئے، واقعے کی مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے ڈاکٹر فرقان کے اہل خانہ اور ان کی اہلیہ کے مطابق ڈاکٹر فرقان کو کسی اسپتال نے نہیں لیا جب کہ اہلیہ کے مطابق امن ایمبولینس نے بھی ٹھیک سلوک نہیں کیا تھا۔

ادھر چیئرمین این ڈی ایم اے نے پروگرام پاور پلے میں کراچی میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق کراچی میں ایک تہائی بیڈز خالی پڑے ہیں، اس وقت سندھ میں وینٹی لیٹرز کی مجموعی تعداد 913 ہے، سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں 835 وینٹی لیٹرز ہیں، کراچی میں اس وقت 160 عام مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، جب کہ پورے سندھ میں کرونا کے صرف 17 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں