The news is by your side.

Advertisement

ہیلتھ سروسز سندھ میں غیر قانونی ترقیوں کی انکوائری مکمل، الزامات ثابت

کراچی: محکمہ صحت سندھ میں غیر قانونی ترقیوں کی ایک انکوائری مکمل ہو گئی، 6 کلرکس پر الزامات ثابت ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ میں غیر قانونی، آؤٹ آف ٹرن پروموشنز کے معاملے میں افسران کے خلاف غیر قانونی ترقیوں کی انکوائری مکمل کر لی گئی، جس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی سامنے آ گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6 افسران پر غیر قانونی طور پر ترقی پانے کا الزام ثابت ہو گیا ہے، 2018 میں سابق ڈی جی ہیلتھ سروسز حیدر آباد نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، اور 11 اور 14 گریڈ کے 6 کلرکس کو آؤٹ آف ٹرن پرموشن دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تمام افراد کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دے کر 16 گریڈ میں تعینات کیا گیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں ڈی جی ہیلتھ سندھ کو سفارشات بھی دی گئی ہیں، تجویز دی گئی ہے کہ غیر قانونی ترقی پانے والے افسران کی فوری تنزلی کی جائے۔

محکمہ بلدیات سندھ نے 62 افسران و ملازمین کو فارغ کر دیا

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جو افسران ریٹائر ہو گئے ان کی پنشن اور دیگر مراعات فوری طور پر روکی جائیں، اور سابق ڈی جی کی پنشن، مراعات روکنے کے لیے بھی چیف سیکریٹری کو درخواست دی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ محکمے میں ٹرانسفر پوسٹنگ کے حوالے سے جامع رپورٹ تیار کی جائے اور غیر قانونی ترقی پانے والوں کو شو کاز نوٹس دیے جائیں۔

یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ سندھ بھر سے ڈسٹرکٹ، ریجنل سطح پر اہل افسران کی سینیارٹی لسٹ بنائی جائے۔

واضح رہے کہ غیر قانونی بھرتیوں پر تحقیقات محکمہ صحت کے افسر غلام محمد میمن کی درخواست پر شروع کی گئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں