The news is by your side.

Advertisement

منہ میں اسٹیکر لگائیں، انسولین انجیکشن سے نجات پائیں

پیرس: طبی سائنس دانوں نے ایک ایسا اسٹیکر بنا لیا ہے جس میں انسولین موجود ہوتی ہے، اور جسے گال کے اندر والے حصے میں لگا کر آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فرانس کی یونیورسٹی آف لیلے کی پروفیسر سبینے زیونیرائٹس اور دیگر ممالک کے محققین نے گال کے اندر چپکائے جانے والے تجرباتی انسولین اسٹیکر بنا لیے ہیں، جنھیں منہ کے اندر چپکانے سے انسولین کی مناسب مقدار جسم میں شامل ہو جاتی ہے، ان اسٹیکرز میں بار بار انسولین دوا شامل کی جا سکتی ہے۔

سب ہی جانتے ہیں کہ انسولین کی ڈوز ٹیکوں یا پمپ سے جسم میں داخل کی جاتی ہے، لیکن اب محققین کا تیار کردہ تجرباتی پیوند گال کے اندر چپک کر خون میں انسولین داخل کر سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ نرم اسٹیکر 3 اشیا پر مشتمل ہے، اسے پولی ایکریلک ایسڈ نامی پالیمر کے نینو فائبر سے بنایا گیا، پھر اس میں بی ٹا سائیکلو ڈیکسٹرن مالیکیول ملایا گیا، اور آخر میں گرافین آکسائیڈ کی کچھ مقدار شامل کی گئی۔

اسٹیکر بنائے جانے کے بعد اگلا مرحلہ اس میں دوا شامل کرنے کا ہے، اس کے چھوٹے ٹکڑوں کو انسولین محلول میں 3 گھنٹوں تک ڈبویا گیا، اس کے بعد انھیں خنزیروں کے گال کے اندر موجود کھال کی تہوں پر لگایا گیا، اور پھر انفراریڈ لیزر سے انھیں پچاس درجے سینٹی گریڈ تک 10 منٹ تک گرم کیا گیا۔

دس منٹ تک گرم کرنے پر اس پیوند سے انسولین کا اخراج ہونے لگتا ہے، اور جلد کے اندر دوا جذب ہو جاتی ہے۔

سائنس دانوں نے ذیابیطس میں مبتلا جانوروں پر اس کا تجربہ کیا، ہر جانور کو دس منٹ تک پیوند لگایا گیا، ریسرچرز نے دیکھا کہ فوری طور پر ان کے خون میں شکر کی مقدار کم ہونے لگی ہے، اور صرف 20 منٹ میں انسولین کی پوری ڈوز جسم کے اندر پہنچ گئی۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ گال کے اندر لگائے جانے والے اسٹیکر سے جلد پر کوئی خراش یا منفی اثر نہیں ہوا، یہ پیوند 6 انسانوں کو بھی 2 گھنٹوں تک لگائے گئے اور ان کے اندر بھی کوئی منفی اثر نہ ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں