The news is by your side.

Advertisement

چوہے کی دل چسپ کہانی پڑھیے

اردو کا مشہور محاورہ ہے پیٹ میں‌ چوہے دوڑنا جو بھوک سے بے حال ہونے پر ان لوگوں کی زبان پر بھی نکل جاتا ہے جو عام حالات میں اس چھوٹی سی مخلوق کا نام لیتے ہوئے بھی کراہت محسوس کرتے ہیں۔

چوہے دنیا بھر میں‌ دندناتے پھرتے ہیں اور صرف جنگل یا ویرانے ہی اس مخلوق کا مسکن نہیں‌ ہیں‌ بلکہ یہ پُر رونق شہر، بازار اور انسانی آبادیوں میں‌ بھی آزادی سے گھومتے پھرتے نظر آجائیں گے۔ اکثر لوگ چوہے سے کراہت ہی نہیں بلکہ خوف بھی محسوس کرتے ہیں۔

اسی مخلوق کو مقدس بھی مانا جاتا ہے۔ ہندو اساطیر کی بات کریں‌ تو چوہے سے متعلق کئی داستانیں پڑھنے کو ملیں‌ گی۔ اسی طرح‌ ہم نے ایک شکاری کے جال میں‌ پھنس جانے والے شیر کی کہانی بھی پڑھی ہے جسے ایک چوہا اپنے دانتوں سے جلدی جلدی کتر دیتا ہے اور جنگل کا بادشاہ آزاد ہوجاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں‌ کہ چوہا، جس سے اکثر لوگ ڈرتے ہیں کس ملک کے باسیوں‌ کے لیے بہت خاص ہے اور وہ اسے‌ اہم تصور کرتے ہیں؟

چین وہ ملک ہے جہاں‌ کے لوگ چوہے کی موجودگی کو تجسس اور وسائل کی بھرمار سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی نہیں‌ بلکہ چینی کیلنڈر کا پہلا اور نمایاں جانور بھی چوہا ہی ہے۔‌ یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ چین میں رواں سال اس تناظر میں خاص تقریبات کا انعقاد بھی کیا جانا تھا۔ تاہم دنیا بھر میں‌ کرونا کی وبا کے باعث کئی تہوار اور بڑی تقریبات کا انعقاد ممکن نہیں‌ ہو سکا۔

چین کے علاوہ دنیا کے کسی اور خطّے یا ملک میں‌ بسنے والے چوہے میں‌ کوئی دل چسپی نہیں‌ رکھتے اور اسے بدصورت یا کریہہ سمجتے ہیں جس کے تصور ہی سے بدن میں جھرجھری دوڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چوہے کو یورپ اور ایشیا میں وبائی امراض پھیلانے اور لاکھوں‌ انسانوں‌ کی ہلاکت کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ طاعون کے علاوہ کوڑھ کی بیماری یا بعض دوسرے امراض کے حوالے سے عام خیال ہے کہ یہ وبائیں یا امراض‌ چوہے کی مختلف اقسام سے انسانوں‌ کو منتقل ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں