spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

بھوکا رہنا صحت کیلئے کتنا مفید ہے؟ حیران کن تحقیق

آج کل کی زندگی اتنی مشینی انداز کی ہوتی جارہی ہے کہ کسی کے پاس اپنے لیے بھی وقت نہیں ہوتا کہ وہ ٹھیک وقت پر ٹھیک غذا کھاسکے، کسی دانا کا قول ہے کہ انسان نہ کھانے نہیں بلکہ کھانے سے مرتا ہے۔

موجودہ دور میں بازار سے ملنے والے پکے پکائے یا تیار شدہ ڈبہ پیک کھانوں کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے جن میں سے بیشتر کو گھر میں گرم کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی، جس کا نتیجہ صحت کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایک مختصر اور منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دن اور رات میں تین وقت کے بجائے دو وقت متوازن غذا کھانے سے جسم کی تیزابیت (انفلیمیشن) کم ہوسکتی ہے، جس سے انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ بھی اسی عمل کا نام ہے جس پر حالیہ برسوں میں کافی کام ہوا ہے۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے مراد دن بھر میں ایک خاص دورانیے تک کھانے سے دوری اختیار کی جاتی ہے۔

یعنی ایک طرح سے یہ رمضان کے روزوں جیسا طریقہ کار ہی ہے اور متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ یہ جسم اور دماغ دونوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔

طبی جریدے سیل میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بھوکے رہنے والے افراد کی صحت کا موازنہ معمول کے مطابق کھانا کھانے اور مشروب پینے والے افراد سے کیا۔

ماہرین نے 21 صحت مند افراد کی خدمات حاصل کیں اور انہیں 24 گھنٹےمیں ایک بار 500 گرام اچھی اور صحت مند غذا کھانے کی ہدایت کی گئی اور باقی اوقات روزے پر رہنے کا کہا گیا۔

ماہرین نے مذکورہ تمام رضاکاروں کے بلڈ ٹیسٹ بھی کیے اور پھر ان کے بلڈ ٹیسٹ اور جسمانی صحت کا موازنہ تین وقت کھانا کھانے اور مشروب پینے والے افراد سے کیا تو معلوم ہوا کہ روزے رکھنے والے افراد کے جسم کی تیزابیت کم ہوچکی تھی۔

ماہرین کے مطابق کم غذائیں کھانے سے جہاں انفلیمیشن کم ہوتی ہے، وہیں نظام ہاضمہ میں کردار ادا کرنے والے تمام اعضا کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے، جن میں جگر، گردے، آنت اور دیگر اعضا شامل ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ جسم میں انفلیمیشن کی مقدار زیادہ ہونے سے ذیابیطس سمیت امراض قلب اور آنتوں کی کئی بیماریاں ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ انفلیمیشن یا تیزابیت آٹو امیون بیماریاں بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے، اس لیے صحت مند رہنے کے لیے کم کھانا کھایا جائے، فاقوں پر رہنے کا اپنا معمول بنایا جائے، یعنی انسانوں کو روزے رکھنے چاہئیے اور کم غذاؤں کا استعمال کرنا چائیے۔

مذکورہ تحقیق سے قبل بھی متعدد تحقیقات میں بتایا جاچکا ہے کہ روزے رکھنا، فاقے کاٹنا یا کم غذائیں کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

Comments

- Advertisement -