The news is by your side.

Advertisement

نوجوانوں کا عالمی دن:معاشرے سے دور ہوتے پاکستانی نوجوان

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی نوجوانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ رواں برس اس دن کا موضوع نوجوانوں کی معاشرے سے ہم آہنگی ہے، آج کا پاکستانی نوجوان خود کو معاشرے سے ہم آہنگ محسوس نہیں کرتا لہذا وہ ملک چھوڑ کر چلے جانے میں اپنی عافیت سمجھتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی 15 سے 30 سال کے افراد کی عمر کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہے۔ نوجوانوں کو ملک کا مستقبل تو کہا جاتا ہے تاہم حالات یہ ہیں کہ ملکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے معاشرے سے رشتہ ترک کرکے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا نوکریاں کرنے کی خواہاں ہے۔

پاکستان کے نوجوان عمومی طور پر اپنے معاشرے سے نالاں نظر آتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ ان سے پچھلی نسل نے انہیں ایک صحت مند معاشعہ تعمیر کرکے نہیں دیا جس کے سبب انہیں معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔

آج کے نوجوان اپنے معاشرے سے دور اور مغربی اقدار کے قریب ہوتے جارہے ہیں جہاں ان کے خیال میں ان کی لئے وسیع پیمانے پر سہولیات اور موساقع موجود ہیں۔

آج کے دن کی مناسبت سے حکومت کے لئے اس عزم کا اعادہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ملک سے ناطہ توڑ کر جانےوالے نوجوانوں کے مسائل پر فوری توجہ دے اور انہیں فی الفور حل کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کرے بصورت دیگر ملک سے پڑھے لکھے ، باشعور نوجوان یونہی وطن چھوڑ کر جاتے رہیں گے۔

پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں اب تک 36 ہزار پاکستانی نوجوان، جن میں ڈاکٹرز، انجینئر اور اساتذہ شامل ہیں، بیرون ملک اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہجرت کر چکے ہیں۔ جبکہ ماہرین کے غیر سرکاری اندازوں کے مطابق یہ تعداد 45 ہزار سے کہیں زیادہ پہنچ چکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں