site
stats
اے آر وائی خصوصی

پاکستان کے موجودہ حالات‘ ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف کا خصوصی انٹرویو

دفاعی تجزیہ کار ایئرمارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران دونوں ہمارے لیے محترم ممالک ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں۔

ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف نے گزشتہ روز ملک کی موجودہ داخلی اور خارجی صورتحال پر اے آروائی نیوز ویب ڈیسک سے خصوصی گفتگو کی
جس میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وزیردفاع خواجہ آصف کے بیانات میں تضاد غیر سنجیدگی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

شاہد لطیف پاک فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ تھری سٹار جنرل ہیں۔ انہوں نے 1971 سے 2006 ملک و قوم کے لئے خدمات سر
انجام دی۔ حکومت پاکستان اور پاک فضائیہ نے انہیں ہلال امتیاز ، ستارہ امتیاز اور ستارہ بسالت سے نوازا۔ شاہد لطیف تجزیہ کار برائے
دفاع اور حالت حاضرہ بھی ہیں۔


اے آروائی نیوز:- سابق آرمی چیف کے حوالے سے بیانات میں تضاد ‘ کیا وزیر دفاع سےغیر ذمے دار انہ بیان کی تو قع کی جاسکتی
ہے ؟۔

شاہد لطیف:- اگر وزیرِدفاع کو اس متعلق کوئی علم نہیں تھا تو ان کو یہ بات کرنی ہی نہیں چا ہیے تھی۔ان کو تو یہ کہنا چا ہیے تھا کہ میں
اس بابت کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں کیونکہ یہ بہت سنجیدہ نوعیت کا سوال ہے‘ مگروہ تویہاں تک کہہ گئے کہ دو یا تین روز قبل اس فیصلے پر
عملدرآمد ہوچکا ہے۔ پھرجب ان سے سوال ہوا کہ کیا حکومتِ وقت کی مرضی سے سابق آرمی چیف راحیل شریف نے یہ فیصلہ کیا ہےتو ان کا
جواب تھا کہ اس کے لئے اجازت لینا ہو تی ہے تو یقینا راحیل شریف نے حکومت سے اجازت لی ہو گی۔ چند روز قبل انہوں نے
بڑے وثوق سے یہ بات کی جبکہ آج سینٹ میں وہ اپنے بیان سے یکسر مختلف بات کہتے نظر آئے ۔ ان کے چند روز قبل کے بیان اور
موجودہ بیان کے درمیان بہت بڑا تضاد ہے. میں سمجھتا ہوں کہ اتنے اہم عہدے پر فائز انسان کو اس قسم کی غیر ذمے دارانہ بیان بازی
زیب نہیں دیتی۔

shahid-latif-2

اے آروائی نیوز:- پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کی اسمبلی کے فلور پر تقریر اور عدالت میں دوران سماعت کی جانے
والی بات کے درمیان بھی بڑا تضاد دیکھا جبکہ وزیر دفاع کے بیانات بھی مکمل کنفوژ ن کا شکار نظر آتے ہیں؟۔

شاہد لطیف:- دیکھیں! وزیراعظم کا عہدہ بہت اہم ہوتا ہے. کیوں ریاست کے اموراس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں.اب کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ سیاسی بیانات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ مناسب ہی نہیں لگتا کہ وزیر ا عظم جیسی شخصیت فلور آف ہاؤس میں جو بات کرے اس کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو جبکہ پارلیمنٹ کا ایک تقدس ہو تا ہے کیونکہ وہاں عوام کے منتخب کرده نما ئندے موجود ہو تے ہیں۔ وہاں ملک و قوم کی فلاح کے لئے فیصلہ سازی کی جاتی ہے. اُس پارلیمنٹ میں وزیرا عظم اپنی صفائی پیش کر رہے تھے۔صفائی پیش کرنے کے بعدآپ بولیں کہ جی میرا مقصد یہ نہیں تھا وہ تو ایک سیاسی بیان تھا۔

اے آروائی نیوز:- دیکھا گیا ہے کہ ماضی میں اور ابھی حال میں بھی سیاست دانوں کی جانب سے فوج پر تنقید کی جاتی رہی ہے‘ آپ کے خیال میں اس کا کیا سبب ہے؟۔

شاہد لطیف:- اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے یہاں احتساب کا عمل فعال نہیں ہے‘ لہذا ہرہر شخص اپنی بات کہنے میں آزاد ہے ۔من گهڑت باتیں بھی بلاخوف وخطر بولی جا تی ہیں‘ اگر کوئی سوال کرے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ جناب یہ تو سیاسی بیان تھا۔

اپنے ہی ملک کی فوج کے خلاف بات کرنا مناسب نہیں لگتا ہے‘ پھر ہمارے آ ئین میں بھی درج ہے کہ فوج کے خلا ف بحیثیت ادارہ کوئی بات نہیں کی جائے گی اس کے باوجود صورتحال غیر تسلی بخش ہے اور اس کی بنیادی وجہ احتساب کے عمل کا غیر فعال ہو نا ہے ۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ اکثر سیاسی شخصیات پا رلیمنٹ میں اہم عہدوں پر فائز ہو نے کی وجہ سے آ ئینی شق کے حوالے سے استثنیٰ حاصل کیے ہو تے ہیں۔ لہذا ان کی مرضی ہے جو چا ہیں کریں۔

یہاں ایک اور دل چسپ بات! یہ حضرات آئین کی استثنیٰ والی شق کوتو مانتے ہیں البتہ آ ئین نے جہاں کسی بات سے منع کیا ہے اوروہ ان کی مرضی کے مطا بق نہیں‘ اس پر عمل کرنا تودر کناراس کا ذکر کرنا بھی گو ارا نہیں کرتے ہیں۔

shahid-post-1

اے آروائی نیوز:- کیا فوج میں کمان کی تبدیلی سے پالیسی پر کوئی فرق پڑا ہے ‘ جیسا کہ سرل یا کلبھوش یادو کا معاملہ ہے؟۔

شاہد لطیف :- یہ دونوں معاملا ت سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ ان ایشوز کا منطقی انجام ہو نا چا ہیے۔ من گهڑت نیوزاسٹوری میں مسلح افواج کو بدنام کا گیا ہے دشمن کو خو ش کرنے کے لئے اس ایجنڈے پر کام کیا گیا ہے۔ اس قسم کی بہتا ن تر اشیاں تو ہندوستان کرتا ہے ۔ یہ تو سب جانتے ہیں ہے کہ پاکستان میں د ہشتگر دی ’ را‘ کر واتی رہی ہے اور آپ اپنےہی ملک کی افواج کو دہشت گردی کا ذمے دار گردان رہے ہیں ۔پاک افواج ملک کی سلامتی کی ضامن ہیں نہ کہ دہشتگر دوں کے سر پر ست۔اس فوج نے ملک کی بقا کی خا طر سینے پر گو لیا ں کھا ئی ہیں. اپنے گرم لہو کو نچھاور کر کے وطن عزیز کی بنیادیں مستحکم کی ہیں. یہ بھلا کیسے د ہشت گر دوں کے سر پرست ہو سکتے ہیں. جبکہ ان کا کام ہی ملک سے د ہشت گر دی کے ناسور کو ختم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اللّه کی مہر بانی سے ہمیں کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے . ضرب عضب اور کراچی آ پر یشن کی کامیابیاں سب کے سامنے ہیں۔

اے آروائی نیوز:- تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت مسلح افواج کو پنجاب پولیس بنانے کی خواہش مند ہے‘ کیا ان کا یہ موقف درست ہے ؟۔

شاہد لطیف :-دیکھیں یہ پاکستان تحریک انصاف کا اپنا موقف ہے ‘ ان کی سو چ بھی ہو سکتی ہے اور شاید حکومت کی یہ واقعی خواہش بھی ہو۔ماضی میں پیپلز پارٹی کے زمانے میں آ ئی . ایس . آ ئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت لانے کی بھی کو شش کی گئ تھی‘ تاہم ایسا ہو نہیں سکا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کے فوج کا ادارہ حکومت کا تا بع ہے مگرمسلح افواج کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیا کرتی ہیں۔

اے آروائی نیوز:-جمہوری دور میں فوجی عد الت کا قیام اور تو سیع کا معاملہ کس قسم کی ’جمہوریت‘ ہے ؟

شاہد لطیف :- دیکھیں فوجی عد التو ں کا قیام پا ر لیمنٹ کے فیصلہ سازی سے ہی عمل میں آیا تھا ۔ جمہوری حکومت نے یہ اقدامات کیےتھے۔ آئین میں اکسیویں ترمیم پارلیمنٹ کی منشا سے ہوئی تھی۔ نیشنل ایکشن پلان میں بھی یہ نکتہ حکومت نے خود ڈالا تھا۔ پاک فوج زبردستی تونہیں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لائی۔ اس ی طرح تو سیع کے معا ملے میں بھی پاک فوج کی ایسی کوئی خوا ہش نہیں ہے۔ فوج کا کام ملک کی دفاعی خدمت کرنا ہے اور وہ نہ صرف وہ کا م نیک نیتی کے ساتھ کر رہی ہے بلکہ حکومت جب بھی انہوں ملکی فلاح و بہبود کے حوالے سے جب بھی تعاون کی درخواست کرتی ہے ۔ پاک افواج خندہ پیشانی سے وطن عزیز کی خدمت پر مامور ہو جاتی ہے۔

اے آروائی نیوز:- 39 مسلما ن مما لک کے اتحاد کے حو الے سے سابق آمی چیف راحیل شریف کی شر ا ئط سامنے آ ئی ہیں‘ کیا اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ سعو د ی عرب سے آفر آئی ہوگی ؟تب ہی شرائط سامنے آئیں؟۔

شاہد لطیف:- دیکھیں آ فر آ ئی ہو گی یا نہیں میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.میں اتنا جانتا ہوں پاکستان خود دہشتگردی سے نبرد آ ذما ہے . ہم نے جب پہلے اپنی فوج یمن نہیں بھیجی تو اب کیوں اس قسم کے اقدامات کریں گے جس سے پاکستان کو کسی قسم کےخطرات کا سامنا کرنا پڑ ے۔ ہم سعودی عرب اورایران دونوں کا دل سے احتر ام کرتے ہیں دونوں ہما رے برا در اسلامی ممالک ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں۔

اے آروائی نیوز:-کیا پاکستان کو 39 مسلم ا تحا د کا حصہ ہو نا چا ہیے ؟ اس سے ہما ری خا رجہ اور د فا عی پا لیسی پر کیسےا ثرات مرتب ہوں گے؟۔

شاہد لطیف :-رہی بات خارجہ اور دفا عی پالیسی کی تو جناب اس حکومت کو تین سال سے زائد کا عرصه ہو گیا ہے تاحال ملک کا کوئی وزیر خا رجہ نہیں ہےاور دفاعی پالیسی سے اگر آپ کی مراد وزارت دفا ع ہے تو ان کی پالیسیاں تو ان کے غیرسنجید ه بیانات سے آشکار ہیں ۔ ہاں! اگر دفاع سے مراد پاکستان ڈیفنس ہے تو پاک افواج ملک کی خا طر ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی صلا حیت رکھتی ہے . ماشا اللہ

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top