The news is by your side.

Advertisement

حادثاتی طور پر ایجاد ہونے والا آلہ جس نے لاکھوں افراد کی جانیں بچائیں

پیس میکر ایک ایسا آلہ ہے جو برقی طور پر دل کی دھڑکن اور رفتار کو کنٹرول کرتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں اس پیس میکر کی ایجاد حادثاتی طور پر ہوئی اور یہ ایجاد دراصل ایک اور ایجاد میں کی جانے والی غلطی کا نتیجہ تھی؟

سنہ 1958 میں ایک امریکی انجینیئر ولسن گریٹ بیچ انسانی دل کی دھڑکن کو سننا اور ریکارڈ کرنا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے ایک مشین بنائی۔

لیکن ولسن نے اس مشین میں ایک پرزے ریززٹر کا غلط سائز نصب کردیا، جب یہ مشین کام کرنا شروع ہوئی تو یہ دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کرنے کے بجائے الٹا اسے ایک برقی دھڑکن (توانائی کی ایک لہر) دینے لگی۔

تب ہی ولسن پر انکشاف ہوا کہ وہ غلطی سے ایسی مشین ایجاد کر بیٹھا ہے جو ان افراد کو مصنوعی دھڑکن دے سکتی ہے جو امراض قلب کا شکار ہوں۔

ولسن نے اس مشین کی صلاحیت کو مزید جانچنے کے لیے کئی کتوں پر آزمایا اور ہر بار مشین نے کامیابی سے کام کیا۔

پیس میکر کیسے کام کرتا ہے؟

ہمارا دل ایک پمپ کی طرح کام کرتا ہے جو خون کو جسم کی طرف دھکیلتا ہے۔ دل کی دھڑکن کی رفتار میں توازن قائم رکھنے کے لیے دل کا قدرتی برقی نظام کام کرتا ہے۔

دل کے اوپر کے حصے سے جسے سائنوٹریل نوڈ کہا جاتا ہے، ایک برقی تحریک شروع ہوتی ہے۔ اس برقی تحریک سے دل کے مختلف حصے ایک کے بعد ایک حرکت کرتے ہیں اور یوں پورے جسم میں خون کی روانی جاری رہتی ہے۔

تاہم بعض اوقات سائنوٹریل نوڈ خرابی کا شکار ہوجاتا ہے جس کے بعد دل کو مصنوعی طور پر تحریک دی جاتی ہے اور یہ کام پیس میکر انجام دیتا ہے۔

پیس میکر کی حادثاتی ایجاد سے لے کر اب تک 6 دہائیوں میں اس مشین کی وجہ سے لاکھوں افراد کی جانیں بچ چکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں