iran Rejectsایرانی صدرنے سعودی عرب کا جارحیت کا الزام مسترد کردیا
The news is by your side.

Advertisement

ایرانی صدرنے سعودی عرب کا جارحیت کا الزام مسترد کردیا

تہران : ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کا براہ راست فوجی مداخلت کا الزام مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کی جانب سے ایران پر براہ راست فوجی مداخلت کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے علاقائی استحکام کا خواہاں رہاہے۔

ایرانی صدر نے سعودی عرب کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقائی ریاستوں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی بجائے اپنے داخلی مسائل حل کرے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے ایران پربراہ راست فوجی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہوہ یمن میں باغیوں کو میزائل فراہم کر رہے ہیں۔


سعودی عرب کا ایران پر براہ راست فوجی مداخلت کا الزام


سعودی ولی عہدشاہ سلمان نے برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ایران کے خلاف تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی یمن کومیزائل کی فراہمی براہ راست جنگی جرم اورخطے میں عدم استحکام کا باعث ہے۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران پر سعودی الزامات کی تائید کی تھی۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب کنگ خالد ائیرپورٹ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا تھا ، جسے سعودی ایئر ڈیفنس نے ناکام بنادیا تھا تاہم حملے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔


مزید پڑھیں : ریاض، حوثی باغیوں کا ایئرپورٹ پر میزائل حملہ


باغیوں کے ترجمان نے عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے میزائل حملے کا دعوی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 800 کلومیٹر تک مار کرنے والے برقان ایچ ٹو نامی میزائل داغا گیا ہے جو اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہا جبکہ حملے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔

بعد ازاں سعودی وزارت داخلہ نے حکومت مخالف مطلوب یمنی رہنماؤں اور سعودی عرب کے خلاف دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث چالیس افراد کی فہرست جاری کی تھی۔

سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ ان مطلوب افراد کی گرفتار ی میں مدد دینے یا ان کے ٹھکانے کی اطلاع دینے والوں کو بھاری معاوضہ انعام میں دیا جائے گا۔

فہرست کے مطابق سب سے بڑی رقم 30ملین ڈالر حوثی باغیوں کے سربراہ عبد الملک حوثی پر رکھی گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں