The news is by your side.

Advertisement

ایران نے حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی: عراقی وزیر اعظم

’ایران نے جوابی کارروائی صرف امریکی فوج تک محدود کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی‘

بغداد: عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کے بعد عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کا بیان سامنے آگیا، ان کے مطابق ایران نے حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی کا کہنا ہے کہ ایران نے بغداد میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی۔

عراقی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ایران نے جوابی کارروائی صرف امریکی فوج تک محدود کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ایرانی جنرل کے قتل کے امریکی اقدام سے خطے اور دنیا میں جنگ کے خطرات ہیں۔

خیال رہے کہ ایران نے گزشتہ رات عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے درجنوں میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے، امریکا کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں 2 فوجی اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے۔ امریکی اور اتحادی افواج پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، ایرانی میزائلوں کا ہدف الاسد اور اربیل میں واقع فوجی اڈے تھے۔

بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بیان دیا کہ حملے میں 80 ہلاکتیں ہوئیں، حملے سے متعلق اعداد و شمار فوجی حکام بتائیں گے۔

حملے کے فوری بعد جواد ظریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں مناسب اقدام اٹھایا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا دفاع کریں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں