The news is by your side.

Advertisement

عدالت نے عرفان صدیقی کو مقدمے سے بری کردیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کو مقدمے سے بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے عرفان صدیقی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ جسٹس عامرفاروق نے پولیس رپورٹ کے بعد مقدمہ اخراج کی درخواست نمٹا دی۔

عرفان صدیقی کے وکیل نے کہا کہ انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی جائے جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ آپ کا حق ہے، آپ الگ سے درخواست کرسکتے ہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت اگر انتظامیہ کے ایکٹ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں لکھ دے تو بہتر ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس ڈسچارج رپورٹ کے بعد عرفان صدیقی کی درخواست نمٹا دی۔

سابق وزیراعظم کے مشیرعرفان صدیقی نے کہا کہ عدالت میں بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی، انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بے معنی ایکسرسائز ہے،عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے مجھے مقدمے سے بری کر دیا۔

عرفان صدیقی کے مطابق جج صاحب نے کہا آپ کی حق تلفی ہوئی ہے تو آئینی وقانونی حق استعمال کریں، وکلا سے مشاورت کی جا رہی ہے، 2 الگ الگ کیسز تیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوران سماعت بہت سی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں، ایک کیس حق تلفی، دوسرا جعل سازی کا دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جعلی نوٹیفکیشن اور آرڈر کر کے میرے بنیادی حقوق سلب کیے گئے، مجھے جیل میں ڈال کر ہتھکڑی لگا کر آج کہہ دیا اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ مقدمے کو منطقی انجام تک جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ 30 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے سابق وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں