The news is by your side.

Advertisement

مستقبل قریب میں "ٹوٹے دل” کا علاج ممکن؟ محققین سرگرم

دل ٹوٹ جانا ایک جذباتی کیفیت کا نام بھی ہے لیکن حقیقت میں دل ٹوٹنا (Broken Heart) ایک بیماری ہے جس کا علاج ڈھونڈنے کے لیے سائنسدان سرگرم ہیں، ڈاکٹر ڈانا ڈاسن کے مطابق دل ٹوٹنا مردوں اور عورتوں کو مختلف انداز سے متاثر کرسکتا ہے، اس لیے ان کا علاج اسی انداز سے کیا جانا چاہیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوٹا ہوا دل ٹاکوٹسوبو کارڈیو مایوپیتھی (takotsubo cardiomyopathy) جسے عام زبان مں بروکن ہارٹ سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک بیماری ہے اور اسکاٹ لینڈ کے محققین جلد ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے کا علاج دریافت کرلیں گے جس کے لیے آئندہ تین ہفتوں کے دوران 90 رضاکاروں کو تین سالہ طویل مطالعے کیلیے بھرتی کیا جائیگا۔

محققین نے بتایا کہ اس تحقیقی مطالعے میں شامل شرکا کو تین مختلف کٹیگری میں تقسیم کرکے ان کا جائزہ لیا جائے گاجس میں ایک گروپ کو ورزش ، دوسرے کو منفی خیالات سے نجات کے لیے جسمانی تھراپی جبکہ تیسرا گروپ دونوں سرگرمیوں کو ترک کردے گا۔ تین سال اس عمل سے گزرنے کے بعد سائنسدان ان کے دل کے حالات کا جائزہ لیں گے۔

اس حوالے سے محققین جسمانی تھراپی کے لیے آزمائشیں کر رہے ہیں جو ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں، محققین کا کہنا ہے کہ ہر سال ہزاروں افراد مذکورہ بیماری سے متاثر ہوتے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے اور اس مرض میں مبتلا افراد میں سے تقریباً ایک سے دو فیصد کو دل کا دورہ پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کارڈیالوجی ریسرچ فیلوز کے رکن اور ایبرڈین رائل انفرمری (اے آر آئی) کے ڈاکٹر ڈیوڈ گیمبل نے بتایا کہ مذکورہ بیماری کو شاذ و نادر ہی بیماری میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس مرض میں مبتلا افراد کا مکمل اور معیاری ڈیٹا جمع کریں تاکہ معالجین کی رہنمائی ممکن ہوسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں