The news is by your side.

Advertisement

ممبئی حملہ کیس: اسلام آباد عدالت ایف آئی اے پر برہم

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملہ کیس میں 27 بھارتی گواہان کے بیانات قلمبند نہ ہونے پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملہ کیس کی سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے کی جس میں فیڈرل انویسٹی گیشن یونٹ کے ڈائریکٹر پیش ہوئے۔

ایف آئی اے ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارتِ داخلہ و خارجہ ممبئی حملہ کیس سے متعلق 2 کانفرنسز کرچکے ہیں، امید ہے معاملہ جلد ہوجائے گا۔

عدالت نے 27 بھارتی گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے ڈائریکٹر کو فوری طور پر معاملہ حل کرنے کا حکم جاری کیا ، عدالت نے وزارتِ داخلہ اور خارجہ کے سیکریٹریز کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔

پڑھیں: ممبئی حملہ کیس، مودی حکومت راہ فرار اختیار کرنے لگی

یاد رہے کہ ممبئی شہر میں سال 2008 میں ہوٹل پر حملہ ہوا تھا جس کا الزام بھارتی نے بغیر تحقیق کے پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اجمل قصاب کو پاکستان کا شہری ظاہر کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ عسکریت پسند حملے کے لیے سمندر کے راستے کشتی کا سفر طے کر کے آئے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بھارتی پولیس افسر نے ممبئی حملے سے متعلق ’کرکرے کی موت‘ نامی کتاب تحریر کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’اجمل قصاب کو ممبئی حملے سے تین سال قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را نے نیپال حکومت کی مدد سے حراست میں لیا تھا اور پھر اُسے مجرم بنا کر پیش کیا گیا‘۔

مہارشٹرا کے (ر) افسر ایم مشرف نے اپنی کتاب میں تحریر کیا تھا کہ ’’را نے کھٹمنڈو کے قریب سے اجمل قصاب کو اغوا کیا اور اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ممبئی حملوں کے دوران اُسے سامنے لے آئی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ جس خاتون عینی شاہد نے اجمل قصاب کو پہچاننے سے انکار کیا پولیس نے اُن کے خلاف بھی مقدمہ درج کردیا تھا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: اجمل قصاب ممبئی حملے میں ملوث نہیں تھا، بھارتی افسر کا انکشاف

اس کتاب میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’’بھارتی خفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کو نیپال کھٹمنڈو سے اغوا کرکے از خود دہشت گرد کارروائیاں کر کے انہیں منظر عام پر لاتے ہیں جس کا مقصد اقوامِ متحدہ کے سامنے مظلومیت ثابت کرنا اور پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا ہوتا ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں