The news is by your side.

Advertisement

ادارے اپنا کام کریں تو ایسی پٹیشنز عدالتوں میں نہ آئیں، چیف جسٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیریں مزاری گرفتاری کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تمام ادارے کام کریں تو ایسی پٹیشنز عدالتوں میں نہ آئیں۔

سماعت کے موقع پر شیریں مزاری کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہوئی جب ولید اقبال کے گھرگئے، عدالت کے احکامات پنجاب کی اتھارٹیز کو بھی بھجوائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو بھجوایا گیا، پہلے یہ سارے کام نہیں کرتے جب اپوزیشن میں آتے ہیں تو کیس عدالت لے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی باتوں سے جمہوریت غیر فعال ہوجاتی ہے، تمام ادارے کام کریں تو ایسی پٹیشنز عدالتوں میں نہ آئیں، سیاسی لڑائیوں میں بھول جاتے ہیں کہ حلقے کے عوام کو جوابدہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کریں گی توعدالت کیا کرے؟ حکومت کا کام ہے، یہ بھی سوشل میڈیا پر طعنے ہی دیتے ہیں، عدالت فیصلہ دیتی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب نے مل کر اپنا اپنا آئینی کردار ادا کرنا ہے، شیریں مزاری کوعدالت کے دائرہ اختیار سےغیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، یہ کورٹ یہی فیصلہ دے سکتی ہے نا کہ ان کو غیرقانونی طریقے سے اٹھایا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومتی عہدیدار بھی کام کے بجائے سوشل میڈیا پر طعنے دیتے رہے، آج بھی یہی ہو رہا ہے، شیریں مزاری واحد رکن قومی اسمبلی نہیں جن کے ساتھ یہ سب ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں