The news is by your side.

Advertisement

پشاور: ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے والی کالج طالبہ کا مستقل خطرے میں پڑ گیا

پشاور: جنسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے والی کالج طالبہ کا مستقل خطرے میں پڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج کرنے والی تاریخی درس گاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبہ نے فریاد کی ہے کہ امتحانات میں ان کے پرچے فیل کیے جاتے ہیں، پڑھائی متاثر ہو رہی ہے، اور قیمتی سال ضائع ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ نومبر 2020 میں اسلامیہ کالج کی طالبات نے ایک غیر متوقع احتجاجی ریلی نکالی تھی، یہ احتجاج غیر متوقع اس لیے تھی کیوں کہ یہ قدیم تاریخی درس گاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافے کے خلاف طالبات کی ریلی تھی۔

اس سے قبل کسی کالج یا یونیورسٹی کی طالبات نے جنسی ہراسانی کے واقعات کے خلاف کھل کر ایسا احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا تھا۔ احتجاج میں شریک طالبات نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافے کو روکنے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے نعرے درج کیے گئے تھے۔

جنسی ہراسانی کے واقعے میں مبینہ طور پر میں ملوث چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کو صوبائی محتسب نے الزامات ثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، تو اس کے خلاف متعلقہ پروفیسر نے گورنر کو اپیل کر دی، گورنر نے ان کی اپیل منظوری کرتے ہوئے انھیں نوکری پر بحال کر دیا۔

متاثرہ طالبہ نے چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کی گورنر کی جانب سے دوبارہ عہدے پر بحالی کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے متاثرہ طالبہ کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔

متاثرہ طالبہ کے وکیل سنگین خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ اسلامیہ کالج میں طالبات کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر صوبائی محتسب نے چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈپارٹمنٹ کو نوکری سے برخاست کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، لیکن انھوں نے صوبائی محتسب کے فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی،گورنر نے طالبات کو سنے بغیر چیئرمین پولیٹکل سائنس ڈپارٹمنٹ کو بحال کر دیا، جو غیر قانونی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہراسمنٹ اور اس طرح کے ایشوز سے ہم سختی سے نمٹیں گے۔

متاثرہ لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گورنر نے ہمیں سنے بغیر یک طرفہ فیصلہ دیا ہے، اور وہ خود اس کیس میں فریق بن گئے ہیں، چیئرمین کی بحالی سے یونیورسٹی طالبات خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ احتجاج اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی، یونیورسٹی میں ایسے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے، چیئرمین کی بحالی سے میرے لیے بھی بہت سے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔

طالبہ نے بتایا کہ امتحانات میں بغیر کسی وجہ کے میرے پرچے فیل کیے جاتے ہیں، میرے تعلیمی سال ضائع ہو رہے ہیں، میں نے ہر فورم پر درخواستیں دیں لیکن کوئی میری بات سننے کو تیار نہیں ہے۔

متاثرہ طالبہ نے مزید بتایا کہ جب ایک سزا یافتہ چیئرمین کو بحال کیا جاتا ہے تو طالبات میں خوف ہی پیدا ہوگا، ہر کوئی خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، صوبائی محتسب نے الزامات ثابت ہونے پر چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، لیکن اس کے باجود ان کو بحال کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا طالبات کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جو لوگ ایسے واقعات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں