spot_img

تازہ ترین

ملک کے 14ویں صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ تاریخ کا اعلان ہوگیا

اسلام آباد : ملک میں نئے صدر مملکت کا...

سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھالیا

کراچی : سندھ اسمبلی کے 148 نو منتخب ارکان...

مسلم لیگ ن 108 ارکان کے ساتھ قومی اسمبلی کی بڑی جماعت بن گئی

اسلام آباد : مسلم لیگ ن108 ارکان کے ساتھ...

سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان آج حلف اٹھائیں گے

کراچی : سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان آج...

بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے...

اسلامیہ یونیورسٹی ڈرگ اور نازیبا ویڈیوز اسکینڈل میں اہم پیش رفت

بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں شرمناک ڈرگ اسکینڈل کے سلسلے میں تحقیقاتی ٹیم بن گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل میں آر پی او بہاولپور رائے بابر سعید نے 5 رکنی اسپیشل تحقیقاتی ٹیم بنا دی، ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی کرائم، ڈی ایس پی لیگل ٹیم اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اواور تفتیشی افسر کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا مقصد شفاف تحقیقات کرنا ہے، بطور کنونیئر ایس پی انویسٹی گیشن کو جلد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایک شرمناک ڈرگ اسکینڈل سامنے آیا ہے، یونیورسٹی کے گرفتار چیف سیکیورٹی افسر اعجاز شاہ کے موبائل سے ساڑھے پانچ ہزار نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس حکام کی جانب سے ویڈیوز کا معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف اسلامیہ یونیورسٹی نے اپنے تین افسروں کی گرفتاری کو سازش قرار دے دیا ہے، اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس ڈاکٹر ابو بکر، چیف سیکیورٹی آفیسر سید اعجاز شاہ اور ٹرانسپورٹ آفیسر الطاف گرفتار ہیں۔

بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ڈرگ اسکینڈل کی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشافات

ڈی پی او عباس شاہ نے جامعہ اسلامیہ کے الزامات کو چیلنج کر دیا ہے، ڈی پی او کا کہنا ہے کہ جامعہ اسلامیہ میں منشیات کے ریکارڈ یافتہ 113 طلبہ کا انکشاف ہوا ہے، انھیں کسی اداے سے تعصب نہیں جیسی چاہیں تحقیقات کروا لیں۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو بھیجی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سید اعجاز شاہ کے قبضے سے سیکڑوں طالبات کی ویڈیوز اور آٹھ گرام آئس ملی تھی۔

Comments

- Advertisement -