The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل نے فلسطینی وزیراموربیت المقدس کو حراست میں لے لیا

تل ابیب: اسرائیلی حکام نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف ایک بار جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی حکومت کے وزیر برائےبیت المقدس کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز فلسطینی حکومت میں بیت المقدس کے امور کے وزیر فادی الہدمی کو گرفتار کر لیا۔اس سے قبل فادی کو رواں سال جولائی کے اواخر میں بھی بیت المقدس کے مشرقی حصے سے گرفتار کر کے چند گھنٹے حراست میں رکھا گیا تھا۔

اس دوران اسرائیلی پولیس نے ان سے بیت المقدس میں فلسطینی سیاسی سرگرمی کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے وقتا فوقتا مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی عہدیداران کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے یروشلم کے فلسطینی حصے کے گورنر عدنان غیث کو اور ان کے بیٹے کو بھی آج صبح طلب کیا ہے اور ان پر بھی سیاسی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس عمل کو سیاسی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے مترداف قراردیا اور کہا کہ اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ مقبوضہ یروشلم پر اپنی گرفت مضبوط رکھے اور وہاں کسی بھی صورت فلسطینیوں کو کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے۔

دوسی جانب اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے حکام کا یروشلم میں کام کرنا اسرائیلی سیاست کونقصان پہنچاتا ہے۔

یاد رہے کہ بیت المقدس کے گورنر عدنان غیث کو بھی کئی بار گرفتار کیا جا چکا ہے۔ آخری مرتبہ ان کو رواں سال اپریل میں حراست میں لیا گیا تھا۔

فلسطینی اعداد وشمار کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں 5700 کے قریب فلسطینی اسیران موجود ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ گزشتہ کئ دہائیوں سے عالم اسلام اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا سبب بنا ہوا ہے، گزشتہ روز ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا نقشہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل تقریباً سارے ملک پر قبضہ کرنے کے باوجود اسرائیل کا لالچ ابھی تک ختم نہیں ہوا، وہ بقیہ علاقے کو بھی لوٹنا چاہتا ہے، اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا نہیں تو یو این نے کیا کردار ادا کیا؟ یروشلم میں دارالحکومت منتقل کرنا اقوام عالم کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا پانچ طاقتوں سے بڑی ہے، دنیا میں نا انصافی کے سائے تلے ترکی انسانیت کی آواز بن گیا ہے، شامی بچے کا درد، غزہ کے یتیم کا غم، یمن اور صومالیہ میں اولاد کو ایک روٹی فراہم نہ کرنے والے باپ کا دکھ اور کشمیری بھائیوں کو درپیش مشکلات کو ہم محسوس کرتے ہیں، ماضی کی طرح آج بھی ترکی رنگ و نسل کی تفریق کیے بغیر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں