اسرائیل، نو مسلم شخص کو داعش میں شمولیت کے الزام پر 38 ماہ کی سزا Israel
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل، نو مسلم شخص کو داعش میں شمولیت کے الزام پر 38 ماہ کی سزا

یروشلم : اسرائیل کی ضلعی عدالت نے یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے نو مسلم کو 38 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی ضلعی عدالت کی جانب سے آج 40 سالہ نو مسلم ویلنٹن میزلیوسکی کو انتہا پسند جماعت داعش سے تعلق رکھنے پر 38 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، نومسلم شخص کو ریاست مخالف سرگرمیاں رکھنے اور دہشت گردی کی واردات کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے مقدمات کا سامنا تھا۔

اسرائیل کی ضلعی عدالت نے نومسلم ویلنٹن کے خلاف اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے انتہا پسندانہ خیالات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ داعش میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا تھا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ملزم کے شدت پسند تنظیم سے روابط کے شواہد جمع کرائے ہیں جن سے ملزم کا دہشت گردی کی واردات کی مںصوبہ بندی کرنا ثابت ہوجاتی ہے.

بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 40 سالہ ویلنٹن 1996 میں بیلاروس سے ہجرت کر کے اسرائیل پہنچا تھا جہاں اسرائیلی آرمی کی لازمی ٹریننگ کے دوران 2000 میں اُس نے اسلام قبول کرلیا تھا تاہم مشکوک سرگرمیوں کے باعث واچ لسٹ میں شامل کیا گیا اور شواہد ملنے پرسیکیورٹی اداروں نے ویلنٹن کو 2017 کو حراست میں لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا رہے جس کے بعد اسرائیلی مظالم میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو قید و بند کی اذیتوں کا سامنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں