The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت، اسرائیل کا اقوام متحدہ کی رپورٹ ماننے سے انکار

غزہ: فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کی جارحیت بے نقاب ہونے پر اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ ماننے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی حکام نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ میں جنگی جرائم کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غیر منصفانہ قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ برس 30 مارچ سے 31 دسمبر تک ہفتہ وار مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج نے تقریباً 6 ہزار فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، تاہم اسرائیل نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ کو ہی ماننے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں اسرائیل میں ایک حملے میں دو اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے، اسرائیلی فوج نے حملے کا ذمہ دار فلسطینی نوجوان کو قرار دیتے ہوئے رملہ کے ایک گاؤں میں چھاپا مار کارروائی کی تھی۔

اسرائیلی فوج کی فائرنگ، 3 فلسطینی نوجوان شہید

یاد رہے کہ دو ماہ قبل راملہ میں یہودی بلوائیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ غیور فلسطینیوں نے 30 مارچ 2018 کو ’تحریک حق واپسی‘ کے تحت غزہ کی پٹی پر احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا تھا، فلسطینی شہری ہر جمعے اسرائیلی سرحد پر جمع ہوکر غزہ کی صیہونی مظالم اور غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں