The news is by your side.

Advertisement

فلسطینیوں نے جلتی ہوئی پتنگیں اڑا کر اسرائیلی حدود میں چھوڑ دیں

غزہ : اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب سے غزہ میں 25 سے زائد فضائی حملوں کے جواب میں فلسطینیوں نے جلتی ہوئی پتنگیں اڑا کر اسرائیلی حدود میں چھوڑ دیں۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی دفاعی فورسز کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے تھے جس رد عمل میں فلسطینی شہریوں نے جلتی ہوئی پتنگیں اسرائیل چھوڑ دی، جس نے کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جو جلتی ہوئی پتنگوں کو اسرائیلی حدود میں چھوڑا تھا۔

فلسطینی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ ایک روز قبل اسرائیل کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم اسرائیل کے جواب میں فلسطینیوں نے جلتی ہوئی پتنگیں اڑا کر اسرائیل میں چھوڑی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطین سے آنے والی آتشزدہ پتنگوں کے باعث جنوبی اسرائیل میں ہونے والی کھیتی باڑی تباہ و برباد ہوگئی ہے، جس کے باعث ماحول میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں فلسطینوں کی جانب سے اسرائیلی سرحد پر ہونے والے مظاہروں کے دوران جلتی ہوئی پتنگیں اڑائی گئی ہیں جو اسرائیل اور مصر کی حدود میں گری تھیں۔

یاد رہے کہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے 30 مارچ کو اسرائیلی مظالم اور زمین کی واپسی کے سلسلے میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران اسرائیلیوں کی فائرنگ اور شیلکنگ کے نتیجے میں 150 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ہزاروں شہری زخمی ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر حد سے زیادہ اسلحے کا استعمال کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے الزام پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دفاعی فورسز نے اپنے دفاع میں ان افراد پر گولیاں چلائی ہیں جنہوں نے اسرائیلی حدود میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

خیال رہے کہ وحشت اور درندگی کی حدیں پار کرنے والی اسرائیلی فوج نے غزہ میں معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، حال ہی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینی شہید جبکہ سو سے زائد شدید زخمی ہوچکے ہیں۔

یاد رہے کہ 14 جون کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا آج اجلاس ہوا جس میں غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کے خلاف مذمتی قراد داد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں