The news is by your side.

Advertisement

فرعون صفت صہیونیوں نے غزہ میں چھ ماہ کے دوران 16 بچے شہید کر ڈالے

غزہ: فلسطین میں قابض اسرائیل فوج نے بربریت کی تمام حدیں پار کردیں، فرعون صفت صہیونیوں نے غزہ میں چھ ماہ کے دوران 16 بچے شہید کر دیے۔

تفصلات کے مطابق فلسطین میں اسرائیلی فوجی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ چھ ماہ کے دوران قابض صہیونی فوج نے غزہ کے علاقے میں ریاستی دہشت گردی میں 16 فلسطینی بچوں کو شہید کردیا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم’المیزان مرکز برائے انسانی حقوق’ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال کی پہلی شش ماہی کے دوران غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 16 بچے شہید اور 1233 زخمی ہوگئے۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اسکولوں، طبی مراکز اور دیگر داروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صہیونی حکام فلسطینی بچوں کے حقوق کی پامالیوں، بچوں کے قتل عام اوران کے حوالے سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے زیرانتظام تنظیم برائے سائنس وثقافت آئسیسکو نے مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان قصے کو زیرزمین راستے سے ایک سرنگ کے ذریعے مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف کو ملانے کی سرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

اسرائیلی فورسز نے جون 2019 میں انسانی حقوق کی 2017 خلاف ورزیاں کیں

آئسیسکو کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سلوان میں مسجد اقصیٰ کے قریب یہودیوں کے لیے سرنگ کھودا جانا بین الاقوامین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور آسمانی مذاہب کی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس اقدام سے القدس شریف میں موجود اسلامی اور مسیحی عبادت گاہوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں