The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی جاری ، 16 بچے ماورائے عدالت شہید

قابض فوج فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے ،عالمی تنظیم کی شدید تنقید

رام اللہ:عالمی تحریک دفاع اسرائیل کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی فوجی ریاستی دہشت گردی کےدوران رواں سال 16 فلسطینی بچوں کو بےدردی کےساتھ شہید کردیا گیا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قبل ا زیں انسانی حقوق کی تنظیم المیزان مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال کی پہلی شش ماہی کے دوران غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 16 بچے شہید اور 1233 زخمی ہوگئے۔

ان میں غرب اردن ،غزہ اور بیت المقدس کے فلسطینی بچے شامل ہیں۔ شہید ہونےوالے فلسطینی بچوں میں 10 سالہ عبدالرحمان شتیوی، 11 سالہ البراءالکفارنہ اور 12 سال کی عمر کے 4 بچے شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام فلسطینی بچوں کے حقوق کی پامالیوں، بچوں کے قتل عام اوران کے حوالے سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ قابض فوج فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت بڑی عمرکے شہریوں کی شہادتوں کےواقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غرب اردن میں تلاشی کے دوران19 فلسطینیوں کو حراست میں لیا تھا۔فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے تلاشی کی آڑ میں فلسطینیوں کے گھروں میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور گھروں میں گھس کر لوٹ مار، توڑپھوڑ اور خواتین اور بچوں کو زدوب کوب کیا تھا۔

اس سے قبل فلسطین کی غزہ پٹی میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے ہفتہ وار احتجاج کے دوران اسرائیلی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی ، جس کے نتیجے میں 98 افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں سے چند کی حالت تشویشناک ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے رواں سال مارچ میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائیاں جنگی جرائم میں شمار ہوسکتی ہیں۔

فلسطینیوں کی جانب سے گزشتہ 30 برس سے اسرائیل کو فلسطین کا قبضہ چھوڑ کر واپس جانے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور ہرجمعے کو مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے جب 1948 میں فلسطین کے وسیع علاقے میں قبضہ کیا گیا تو متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد غزہ پہنچی تھی جو موجودہ اسرائیل میں اپنی جائیدادیں اور زمینیں چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں