The news is by your side.

اسرائیل نے گولان میں لاکھوں یہودی آبادکاروں کو بسانے کا منصوبہ تیار کرلیا

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل نے شام کی مقبوضہ وادی گولان میں لاکھوں یہودی آبادکاروں کو بسانے کا منصوبہ تیار کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے وادی گولان میں لاکھوں یہودیوں کی آبادکاری کا ایک طویل البنیاد منصوبہ تیار کیا ہے جسے تین عشروں میں مکمل کیا جائے گا، یہ منصوبہ عبرانی ریاست کے ایک سو سال پورے ہونے پر مکمل کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا تھا۔

اس منصوبے کے بعد اسرائیل نے فوری طور پر یہودی آبادکاری کے ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت 30 ہزار مکانات تعمیر کیے جائیں گے، یہ مکانات کیتھرین یہودی کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے جو اب تک تعمیر کیے گئے مکانات کا تین گنا ہیں۔

مزید پڑھیں: گولان پر شام کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے والے اقدامات مسترد کرتے ہیں، شاہ سلمان

علاوہ ازیں دو نئی یہودی کالونیاں تعمیر کی جائیں گی، یہ منصوبے اسرائیلی وزارت ہاؤسنگ، گولان آبادکاری کونسل، کیتھرین ہاؤسنگ کونسل اور موومنٹ اور دیگر اداروں کے اشتراک سے شروع کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل عرب لیگ اجلاس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا تھا کہ وہ گولان کی چوٹیوں پر شام کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو یکسرمسترد کرتے ہیں۔

عرب لیگ سربراہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے امریکی صدر ٹرمپ کے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے فیصلے پر غور کیا گیا تھا اور اس کو مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں