The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی آبادی کو مسمار کرنے کا ارادہ مؤخر کردیا

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے عالمی عدالت کے انتباہ کے بعد مغربی کنارے کی ایک فلسطینی بستی کو مسمار کرنے کا ارادہ مؤخر کردیا ہے، عدالت نے اسرائیلی اقدام کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کا کہنا کہ مغربی کنارے کی فلسطینی بستی خان الاحمر کو مسمارکرنے کا فیصلہ محدود وقت لیے مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ وہاں آباد افراد سے کسی قسم کے معاہدے تک پہنچا جاسکے۔

اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ خان الاحمر میں واقع گھروں کو یکم اکتوبر کے بعد کسی بھی وقت مسمار کر دیا جائے گا۔

صحافیوں سے گفگتو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے مزید کہا کہ مذکورہ رہائشیوں کے ساتھ معاہدے کے بعد اس آبادی کو مسمار کرنے کی کوشش کے لیے وقت کا تعین کابینہ کرے گی۔ نیتن یاہو کے مطابق تاہم یہ محدود وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ خان الاحمر کی بدو آبادی کو زبردستی وہاں سے بے دخل کیے جانے کے عمل کو جنگی جرم شمار کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق خان الاحمر کی کچی آبادی میں تقریباً 180فلسطینی آباد ہیں اور یہ علاقہ یروشلم کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ حکومت کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے علاوہ یہ آبادی ہائی وے کے خطرناک حد تک قریب واقع ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں