The news is by your side.

Advertisement

نہتےفلسطینی کو قتل کرنیوالا اسرائیلی فوجی مجرم قرار

تل ابیب : اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے نہتے اور زخمی فلسطینی کو قتل کرنے پر اسرائیلی فوجی کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے ملزم کو معاف کرنے کا مطالبہ کیاہے۔  مذکورہ فوجی نے زخمی فلطسینی عبد الفاتح الشریف کو سرمیں گولی مار کر شہید کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بیس سالہ اسرائیلی فوجی سارجنٹ الور ازاریہ نے 21 سالہ فلسطینی عبدالفتح الشریف کو اس وقت سر میں گولی مار کر شہید کر دیا تھا جب عبدالفتح الشریف غیر مسلح سڑک پر پڑے ہوئے تھے اوروہ ہلنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

soldier-2

ملزم فوجی پر الزام ہے کہ اس نے ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کی مرتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی حالانکہ اس وقت حملہ آور سے چاقو چھین لیا گیا تھا اور وہ غیر مسلح ہو چکا تھا۔

یہ واقعہ غرب اردن کے قصبے الخلیل (ہیبرون) میں مارچ 2016 میں پیش آیا تھا جس میں ایک دوسرے اسرائیلی فوجی کو چاقو کے وار سے زخمی کر دیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران سارجنٹ الورازاریہ کا موقف تھا کہ مجھے شک تھا کہ عبدالفتح الشریف نے خوش کش جیکٹ پہن رکھی تھی لیکن استغاثہ کا کہنا تھا کہ سارجنٹ ازاریہ نے عبدالفتح الشریف کو گولی مارنے کا قدم انتقام کے جذبے سے اٹھایا۔

اس مقدمے میں استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ‘ایک ایسے وقت میں جب دہشت گرد زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا، اس وقت سارجنٹ ازاریہ نے فوجی قواعد سے روگردانی کی اور ایک ایسی کارروائی کی جس کا کوئی جواز نہیں تھا.

تین فوجی ججوں پر مشتمل پینل نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سارجنٹ ازاریہ کی یہ اپیل مسترد کر دی کہ انہوں نے عبدالفتح الشریف کو گولی اس لیے ماری تھی کیونکہ وہ اس وقت بھی ان کے لیے خطرہ تھے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی فوجی کو ایک زخمی غیرمسلح فلسطینی حملہ آورکو قتل کرنے کا مجرم قرار دیئے جانے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے فوج کے اس معاملے سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا دفاع کیا لیکن اس کے ساتھ ہی سارجنٹ عازاریہ کے گھر فون کر کے ان کے خاندان کے ساتھ افسوس کا بھی اظہار کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں