The news is by your side.

Advertisement

مسجد الحرام سمیت تمام مساجد میں بارشوں کے لیے نماز استسقاء کی ادائیگی کا اعلان

ریاض: سعودی فرمانروا اور خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر کل سعودی عرب کی تمام مساجد میں نمازِ استسقاء کی ادائیگی کی جائے گی۔

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا اور خادم الحرمین شریفین کی ہدایت پر ملک بھر میں بارشوں کے لیے نماز استسقاء کی ادائیگی کی جائے گی۔

مسجد الحرام  اور مسجد نبوی ﷺ میں نماز مغرب کے بعد بارشوں کے لیے نماز استسقاء کی ادائیگی کا اعلان کیا گیا اور بتایا گیا کہ مسجد نبوی ﷺ اور مسجد الحرام بارشوں کے لیے اللہ کے حضور خصوصی نماز ادا کی جائے گی۔

شاہی خاندان کے دیگر شہزادے بھی مسجد الحرام میں نماز استسقاء ادا کریں گے۔ علاوہ ازیں مسجد نبوی اور دیگر کھلے میدانوں میں بھی نماز کے اجتماعات  ہوئے جن میں شریک فرزندان اسلام نے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں گے۔

حرمین الشریفین کے مطابق شیخ بندر البلیلہ مسجد الحرام کے صحن اور شیخ عبد المحسن القاسم مسجد نبوی ﷺ میں نماز استسقاء کی جماعت کرائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ مسجد الحرام میں نماز استسقاء چار نومبر 2021 کی صبح 6 بج کر چالیس منٹ جبکہ مسجد نبوی ﷺ میں 6 بج کر 45 منٹ پر ادا کی جائے گی۔

نماز استسقاء کے احکام اور مسائل

انسان کی ایک بڑی ضرورت پانی ہے، اگر لوگ قحط سے دوچار ہوجائیں تو اور بارش نہ ہورہی ہو تو نبی کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے مخصوص نماز “استسقاء”ادا کرنے کا حکم دیا اور خود بھی نماز باجماعت ادا کیا۔

جب نہریں خشک ہوجائیں، انسان و حیوان کے پینے کی ضرورت نیز کاشت کی ضرورت کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی ہو مگر ناکافی ہو تو ایسی صورت میں استسقاء مسنون ہے۔

نماز استسقاء کے اصل معنی پانی طلب کرنے کے ہیں، اس لئے پانی کے واسطے کی جانے والی دعاء اور نماز دونوں کو استسقاء کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ سے جمعہ کے دن خطبہ میں بارش کی دعا پر اکتفاء کرنا بھی ثابت ہے اور دو رکعت نمازِ استسقاء پڑھنا بھی، اسی لئے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک دونوں باتوں کی گنجائش ہے، یہ بھی کہ دعا پر اکتفاء کیا جائے اور یہ بھی کہ باضابطہ نماز ادا کی جائے۔

مستحب طریقہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے تین دن روزہ رکھا جائے، گناہوں سے توبہ کی جائے اور اگر کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی ہورہی ہو تو اس کی تلافی کی جائے اور پھر چوتھے دن نماز کے لئے نکلے، پیدل جانا بہتر ہے، پرانے دھلے ہوئے کپڑے ہوں، اگر پیوند والے کپڑے ہوں تو وہ پہن لیں، چلتے ہوئے سر جھکائے رہیں، فروتنی اور عاجزی کی کیفیت ایک ایک اداء سے نمایاں ہو، توبہ اور استغفار کرتے رہیں اور بہتر ہے کہ نکلنے سے پہلے کچھ صدقہ بھی کرلیں۔

استسقاء میں بوڑھوں، بچوں، یہاں تک کہ جانوروں کو بھی ساتھ لے جانا مستحب ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ سے رحم کی طلب ہے کہ ان کمزوروں کے طفیل ہم سب کو پانی سے نوازا جائے، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’تم لوگوں کو تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے‘۔

نمازِ استسقاء مکہ، مدینہ اور بیت المقدس میں تو مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصی میں پڑھی جائےگی، لیکن دوسرے مقامات پر بہتر ہے کہ باہر نکل کر صحراء میں اسے ادا کیا جائے۔

نماز کی کیفیت یہ ہوگی کہ امام دو رکعت نماز پڑھائےگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صحاؓبہ کو دو رکعت نماز پڑھائی ہے۔

نماز کے بعد امام خطبہ دےگا، یہ خطبہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک مسنون ہے، جیسا کہ نماز عید کے بعد خطبہ دیا جاتا ہے، یہ خطبہ زمین ہی پر کھڑے ہوکر دیا جاتا ہے۔

خطبے کے بعد امام قبلہ رخ ہوکر دعاء کرے، دعاء زور سے بھی کی جاسکتی ہے اور آہستہ بھی، دوسرے لوگ امام کے پیچھے قبلہ رخ بیٹھیں گے اور دعاء کریں گے، اگر امام بلند آواز سے دعاء کررہا ہو تو لوگ اس پر آمین کہتے ہیں جائیں گے۔

عام دعاؤں میں ہاتھ سینے تک اٹھایا جائےگا لیکن نماز استسقاء میں ہاتھ سر تک اٹھانا مسنون ہے، حدیث نبوی ﷺ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھوں کو اتنا بلند فرمایا کہ بغلِ مبارک کی سفیدی نظر آتی تھی، البتہ ہاتھ کو سر کی مقدار سے اونچا نہ کیا، استسقاء کی نماز میں ہاتھ اس طرح اٹھایا جائےگا کہ پشت اوپر کی طرف ہو اور ہتھیلی زمین کی طرف کہ حضرت انس ﷺ نے حضور ﷺ کا یہی عمل نقل کیا ہے، بعض دوسری احادیث میں بھی یہ بات منقول ہے۔

دعا میں خوب الحاح و زاری کی کیفیت ہونی چاہئے، رسول اللہ ﷺ سے دعاء کے مختلف الفاظ منقول ہیں، یہاں ایک مختصر دعاء نقل کی جاتی ہے، جسے امام ابوداؤدؒ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے:

اے اللہ! ہمیں بھرپور، خوشگوار، شادابی لانےوالی، نفع بخش، غیرنقصان دہ، جلدی نہ کہ تاخیر والی بارش عطا فرما۔

Comments

یہ بھی پڑھیں