The news is by your side.

Advertisement

سماجی دوری، گنجائش نہ ہونے پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کیفے میں داخل نہ ہوسکیں

ویلنگٹن: عموماً کسی ملک کے حکمران کا ناشتے کے لیے کیفے میں جانا ایک غیر معمولی عمل ہوتا ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ جگہ نہ ملنے پر لیڈر کو واپس جانا پڑے ایسا ہونا نایاب ہے۔

لیکن قواعد و ضوابط اور قوانین پر سختی سے عمل پیرا ملک نیوزی لینڈ میں ایسا اس وقت ہوا جب وزیراعظم جسینڈا آرڈن کو کیفے سے محض اس لیے داخل ہونے سے روک دیا گیا کہ سماجی دوری کے قواعد کے تحت مہمانوں کے لیے مزید گنجائش نہیں تھی۔

وزیراعظم جسینڈا اپنے پارٹنر کلارک گیفورڈ کے ہمراہ ویلنگٹن کے معروف کیفے پہنچیں تو سماجی دورے کے قواعد کے مطابق وہاں کوئی ٹیبل خالی نہیں تھا جس پر ملازم نے وزیراعظم کو بتایا کہ اس وقت کیفے میں مہمانوں کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

جگہ نہ ہونے پر وزیراعظم وہاں سے واپس روانہ ہوئی تو بعض افراد جلدی سے اٹھ کر باہر آگئے اور ٹیبل خالی کر دیا، جس پر عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ ایک ٹیبل خالی ہو گیا ہے آپ وہاں آ سکتی ہیں۔

وزیراعظم اپنے پارٹنر کے ہمراہ وہاں کچھ دیر موجود رہیں اور پھر ناشتے کے بعد واپس چلی گئیں، کیفے کے منیجر نے میڈیا کو واقعے کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیفے میں وزیراعظم عملے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں جب کہ انہیں ایک عام مہمان کی طرح سے ٹریٹ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کا کرونا کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان

واضح رہے کہ 27 اپریل کو وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ آج سے ملک میں جاری لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ کرونا کیس کب ختم ہوں گے اس حوالے سے کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہوں گی کہ جو کچھ نیوزی لینڈ کے شہریوں کی صحت سے متعلق ہم نے حاصل کیا ہے اس کو دوبارہ کھو دیں۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے کہ جب 50 لاکھ آبادی والے ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف ایک کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 1122 ہوگئی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں