The news is by your side.

Advertisement

ہڑتال میں دکانیں زبردستی بند کروانے کا الزام، یہ ہمارا شیوہ نہیں، جماعت اسلامی کا جواب

کراچی : جماعت اسلامی کے کارکنان نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے ہڑتال کامیاب بنا نے کیلئے دکانیں زبردستی بند کروائیں، حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہڑتال پرامن تھی، یہ ہمارا طریقہ کار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر کے الیکٹرک کیخلاف جماعت اسلامی نے ہڑتال کی کال کی تھی، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں جزوی طور پر دکانیں اور بازار بند تھے۔

جگہ جگہ بند سڑکوں اور رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو دفاتر، اسکول، کالجز جانے اور ایمبولینسوں کو راستے نہ ملنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ملیر کالا بورڈ، یونیورسٹی روڈ، لیاری، کیماڑی، شاہ فیصل کالونی، بنارس، اورنگی ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں شہریوں نے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے زبردستی بھی دکانیں بند کروائیں، اے آر وائی نیوز کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آرام باغ کے قریب جماعت اسلامی کے کارکنان دکانداروں کو دھمکیاں دے کر زبردستی دکانیں بند کرارہے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی کےالیکٹرک کےخلاف ہڑتال مکمل طور پرامن تھی، کہیں کوئی تشدد ہوا نہ جلاؤ گھیراؤ حتیٰ کہ کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی۔

مزید پڑھیں: کراچی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اورپانی کی قلت کےخلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال

اس کے برعکس ماضی میں اپنے مفادات کیلئےہڑتالیں ہوا کرتی تھیں،ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ہڑتال کی کال دی تھی، ویڈیو سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ زبردستی دکانیں بند کرانا جماعت اسلامی کا طریقہ کار نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں