تازہ ترین

’پاکستان کیلیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اچھی خبریں آئیں گی‘

امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا...

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا اہم بیان

اسلام آباد : پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے...

ملازمین کے لئے خوشخبری: حکومت نے بڑی مشکل آسان کردی

اسلام آباد: حکومت نے اہم تعیناتیوں کی پالیسی میں...

ضمنی انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری

اسلام آباد : ضمنی انتخابات میں فوج اور سول...

طویل مدتی قرض پروگرام : آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے...

جیمس اسٹریٹ – انگریز کے زمانے کا حوالات

جنوبی ہند کے حیدر آباد اور سکندر آباد کو جڑواں شہر کہا جاتا ہے۔

آصف جاہی دورِ حکمرانی میں 1798ء کے فوجی معاہدے کے تحت انگریزوں کی اتحادی فوج نے اپنے تقریباً آٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ اس مقام پر پڑاؤ ڈالا تھا، تاکہ حکومت اور حکمران کی حفاظت کا فریضہ ادا کیا جا سکے۔ چوں کہ اس وقت تیسرے نظام سکندر جاہ حکمراں تھے، لہٰذا انگریزوں نے تجویز دی کہ وہ اس علاقے کا نام ”سکندر آباد“ رکھیں گے، یوں 1806ء میں حیدر آباد کا جڑواں شہر ”سکندر آباد“ قائم ہوا۔

ہر چند کہ بنیادی طور پر یہ فوجی چھاؤنی رہا، مگر فوج کے تعاون کے لیے عوامی شہری آبادی میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

لیفٹننٹ کرنل جیمس کرک پیٹرک کی پیدائش 1764ء میں مدراس (چنائی) میں ہوئی تھی اور وہ برطانوی سفارت کار کی حیثیت سے 1798ء میں حیدرآباد دکن میں وارد ہوئے اور 1805ء میں اپنے انتقال تک حیدرآباد کے ’ریزیڈنٹ‘ کے عہدے پر فائز رہے۔ انھوں نے ہی ’برٹش ریزیڈنسی‘ (حیدرآباد ریزیڈنسی یا کوٹھی ریزیڈنسی) کی عمارت 1798ء میں تعمیر کروائی۔ آج یہی عمارت یونیورسٹی کالج برائے خواتین (عثمانیہ یونیورسٹی کالج فار ویمن، کوٹھی) کہلاتی ہے۔ برٹش/حیدرآباد ریزیڈنسی سے ویمن کالج میں تبدیلی 1949ء میں عمل میں آئی۔ تو انہی صاحب بہادر کرنل جیمس کے نام سکندر آباد کی مرکزی سڑک موسوم کی گئی، یعنی ’جیمس اسٹریٹ‘۔

آزادیٔ ہند کے بعد اس کا نام بدل کر ’مہاتما گاندھی روڈ‘ کر دیا گیا۔ اس مرکزی شاہ راہ پر سیکڑوں معروف و مقبول کاروباری ادارے قائم ہیں۔
جیمس اسٹریٹ کے اسی علاقے میں نظام اسٹیٹ ریلوے نے سکندر آباد اسٹیشن کے بعد حیدر آباد واڈی ریلوے لائن پر دوسرا بڑا اسٹیشن ’جیمس اسٹریٹ‘ کے نام سے 1874ء میں تعمیر کیا، جو آج بھی اسی نام سے قائم ہے۔ اسی طرح جیمس اسٹریٹ کا تھانہ ’جیمس اسٹریٹ پولیس اسٹیشن‘ کے نام سے موسوم ہوا۔

1900ء میں دیوان بہادر سیٹھ رام گوپال نے اس اسٹیشن کی تعمیر کے وقت اپنی طرف سے اسٹیشن کے اوپر کلاک ٹاور نصب کرایا تھا، جو آج بھی فعال ہے۔ آزادی کے بعد حسبِ روایت اس تھانے کے نام کی تبدیلی عمل میں آئی اور آج یہ ’رام گول پیٹ پولیس اسٹیشن‘ کہلاتا ہے۔ مارچ 1998ء میں اس وقت کی آندھرا پردیش کی حکومت نے اس عمارت کو ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ 2016ء تک متعلقہ پولیس عملہ یہاں کار گزار رہا، مگر عمارت کی مخدوش حالت کے سبب بلدیہ حیدرآباد نے اسے ستمبر 2016ء میں خالی کروا دیا۔

از قلم: مکرم نیاز (حیدرآباد دکن)

Comments

- Advertisement -